اسلام آباد ( اوصاف نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ کو تبدیل کردیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کے احکامات کے روشنی میں ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ جسٹس انعام امین منہاس کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو عہدے سے ہٹانے کی تحریری وجوہات بھی جاری کی جائیں گی۔
جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی درخواست وصول کرنے کے بعد ہراسمنٹ کمیٹی کے سربراہ کے طور پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جس کا وہ خود بھی حصہ تھیں۔
جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے مجاز اتھارٹی کے طور پر سرکلر جاری کیا۔ کمیٹی نے ججز کے حوالے سے شکایات سننا تھیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے ہراسمنٹ کمیٹی کے سربراہ کی تبدیلی کے باعث تین ججز پر مشتمل کمیٹی غیر مؤثر ہوگئی۔
اس سے قبل پیر کو ہی ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف ہراسمنٹ کمیٹی میں کمپلینٹ دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف ہراساں کرنے پر معاملہ مجاز اتھارٹی سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے۔
ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور ان کے درمیان کمرہ عدالت میں تلخ کلامی کے واقعہ پر ہائیکورٹ کی ہراسمنٹ کمیٹی سے رجوع کیا تھا۔
مزید پڑھیں:پاکستان ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے کا معاملہ، بھارتی کرکٹ بورڈ کا موقف آگیا
