Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم، حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات جاری

اسلام آباد(رضوان عباسی )مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم اور بعض اہم قوانین میں ترامیم کے معاملے پر وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم اور متعلقہ قانونی تبدیلیوں کے لیے تین سے چار مختلف مسودے تیار کر لیے گئے ہیں جن پر دونوں فریقین کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم میں نئے این ایف سی ایوارڈ سے متعلق امور بھی زیر غور ہیں جبکہ پانی کی تقسیم اور نہروں سے متعلق معاملات بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مرحلہ وار صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ اس پروگرام کا مکمل مالی بوجھ مزید اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اس پروگرام کی مد میں سالانہ 700 ارب روپے سے زائد خرچ کر رہی ہے جبکہ دفاع، قرضوں اور سود کی ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس ترقیاتی اور سماجی منصوبوں کے لیے محدود مالی گنجائش رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے وفاق کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ صوبے اس پروگرام کی ذمہ داری خود سنبھالیں اور اس کے لیے اپنے بجٹ میں فنڈز مختص کریں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے تاحال اس تجویز پر آمادگی ظاہر نہیں کی اور اس معاملے پر مزید مشاورت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم اور مالی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی سیاسی رابطے بھی جاری ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسودوں کو حتمی شکل دینے کے بعد مجوزہ آئینی ترمیم کو اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں۔وفاقی حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق مزید ریکارڈ جاری کر دیا

یہ بھی پڑھیں