اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت جلد گیس صارفین کے لیے خوشخبری کا اعلان کرے گی، کیونکہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی نسبتاً سستی گیس کی بنیاد پر نرخوں میں کمی یا ردوبدل پر غور کیا جا رہا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی تھی، جس کے بعد بجلی کے شعبے میں مقامی گیس کا استعمال نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی گیس کی قیمت قریباً 2 ہزار روپے فی ملین برطانوی تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) ہے، جبکہ درآمدی ایل این جی کی لاگت قریباً ساڑھے تین ہزار روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ جاتی ہے۔ اس فرق کی وجہ سے صارفین کو اضافی مالی بوجھ سے بچانے میں مدد ملی۔
علی پرویز ملک کے مطابق حکومت مقامی گیس کی نئی قیمتوں اور ان کے اطلاق کے حوالے سے ایک سمری جلد وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی، جس کے بعد باضابطہ فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایل این جی کی فراہمی میں تعطل کے دوران ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی گیس کی پیداوار میں قریباً 40 کروڑ مکعب فٹ یومیہ اضافہ کیا گیا، جس سے توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گیس کے شعبے میں برسوں سے موجود گردشی قرضوں کے مسئلے کے حل کے لیے بھی مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مضبوط بنانا اور گیس کمپنیوں پر بڑھتے ہوئے قرضوں کا بوجھ کم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مقامی گیس کی کم لاگت کا فائدہ براہِ راست صارفین تک منتقل کیا گیا تو گھریلو اور صنعتی صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں مالی دباؤ کم ہونے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔
مزید پڑھیں۔جاپان میں آبادی کا بڑا بحران، شرحِ پیدائش تاریخی گراوٹ کا شکار


