Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

جاپان میں آبادی کا بڑا بحران، شرحِ پیدائش تاریخی گراوٹ کا شکار

ٹوکیو(نیوز ڈیسک) جاپان میں شرحِ پیدائش مزید گر کر ایک بار پھر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کو اس وقت آبادی کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے، جہاں آبادی میں مسلسل کمی اور عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث افرادی قوت کی قلت، سوشل سیکیورٹی کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ اور ٹیکس نیٹ سکڑنے جیسے سنگین مسائل نے سراٹھا لیا ہے۔

جاپان میں آبادی کی مسلسل گرتی ہوئی شرح معاشی اور سماجی ڈھانچے کے لیے بڑا خطرہ بن گئی، جاپان میں شرحِ زچگی یعنی ایک خاتون سے اپنے پورے دورِ حیات میں متوقع بچوں کی اوسط تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں مزید کم ہو گئی ہے، یہ جاپان میں شرحِ زچگی میں مسلسل دسویں سال دیکھی جانے والی تاریخی گراوٹ ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال ملک بھر میں پیدا ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد تقریباً 15 ہزار کی کمی کے ساتھ محض 6 لاکھ 70 ہزار سے کچھ زائد رہی، یہ سال 1899 میں پیدائش کا باقاعدہ سرکاری ریکارڈ شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک کی سب سے کم ترین تعداد ہے۔

اس سے قبل فروری میں جاری ہونے والے عبوری ڈیٹا میں پیدائشوں کی تعداد 7 لاکھ 6 ہزار بتائی گئی تھی، تاہم ان میں جاپان میں پیدا ہونے والے غیر ملکی بچوں اور بیرونِ ملک مقیم جاپانی شہریوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھی شامل تھے۔

یہ خطرناک صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جاپان میں نئی پیدائشوں میں کمی کی رفتار نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اینڈ سوشل سکیورٹی ریسرچ کی جانب سے کی گئی حالیہ پیش گوئیوں کے مقابلے میں 15 سال زیادہ تیز ہے۔

جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے کے مطابق مذکورہ ادارے نے سال 2023 میں یہ تخمینہ لگایا تھا کہ سال 2040 سے قبل ملک میں سالانہ پیدائشوں کی تعداد 6 لاکھ 80 ہزار کی حد سے نیچے نہیں گرے گی، تاہم حقیقت میں یہ بحران توقع سے کہیں پہلے جاپانی معیشت پر دستک دے چکا ہے۔

مزید پڑھیں۔اسرائیل اور لبنان جنگ بندی کے نفاذ پر متفق ہو گئے

یہ بھی پڑھیں