خیبرپختونخوا میں ایم پاکس کیسز خیبرپختونخوا میں اضافے کے بعد محکمہ صحت نے صوبے کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ حکام نے طبی عملے کو مشتبہ مریضوں کی فوری نشاندہی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں ایم پاکس کے 26 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں 18 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں۔ یہ کیسز صوبائی نگرانی کے نظام اور لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے سامنے آئے۔
ابتدائی طور پر زیادہ تر کیسز ایسے افراد میں پائے گئے جو خلیجی ممالک سے پاکستان واپس آئے تھے۔ حکام کے مطابق ان افراد میں بیماری کی تشخیص بیرون ملک ہوئی تھی اور بعد میں وہ پاکستان پہنچے۔
تاہم حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے کچھ کیسز نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ بعض مریضوں کی بیرون ملک سفر کی کوئی تاریخ نہیں، جس سے مقامی سطح پر بیماری کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بھی گزشتہ سال کے آخر میں ایم پاکس کے 25 سے زائد کیسز سامنے آئے تھے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں سے بھی بیماری کے کچھ کیسز خیبرپختونخوا تک منتقل ہوئے ہوں۔
صوبے کے تمام ہسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی مریض میں ایم پاکس کی علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طور پر الگ رکھا جائے اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر عمل کیا جائے۔
ڈاکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جلد پر دانے، بخار، جسم میں درد اور لمف نوڈز کی سوجن جیسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ایم پاکس کا شبہ کیا جائے، خاص طور پر اگر مریض کسی متاثرہ شخص کے قریبی رابطے میں رہا ہو۔
محکمہ صحت نے جلدی امراض کے شعبوں، بچوں کے وارڈز، ایمرجنسی اور فوری طبی سہولیات فراہم کرنے والے شعبوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ اکثر ابتدائی کیسز یہی سامنے آتے ہیں۔
ہسپتالوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشتبہ مریضوں کے زخموں سے نمونے قومی رہنما اصولوں کے مطابق حاصل کیے جائیں اور تصدیق کے لیے پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری بھیجے جائیں جہاں پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے بیماری کی تصدیق کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق 2025 کے دوران کیسز کی تعداد 2024 کے مقابلے میں زیادہ رہی جبکہ 2026 کے آغاز میں بھی نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نگرانی اور احتیاطی اقدامات کو مزید مضبوط نہ بنایا گیا تو بیماری کے مقامی سطح پر پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

