لاہور(ویب ڈیسک )مرحوم سرکاری ملازم کی بیوہ کو ملنے والی نوکری دوسری شادی پر ختم نہیں ہوسکتی۔بیوہ شادی کرسکتی ہے، ہمارے مذہب میں یہ عورت کا بنیادی حق ہے، عدالت کے ریمارکس
لاہور ہائیکورٹ نے دوسری شادی کے بعد بیوہ کی سرکاری نوکری سے برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے زویا اسلام کی اپیل پر تحری فیصلہ جاری کردیا جو جسٹس چوہدری اقبال کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے تحریر کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملازم شوہرکی بیوہ کو ملنے والی نوکری دوسری شادی پرختم نہیں ہوسکتی، شوہرکی وفات کے بعد بیوہ کو دوسری شادی پر سرکاری نوکری سے برطرف نہیں کیاجائےگا کیونکہ بیوہ شادی کرسکتی ہےجو عورت کا بنیادی شرعی حق ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بیوہ کو دوسری شادی کی بنیاد پرنوکری سے نکالنا شرعی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جس قانون کی بنیاد پربیوہ کو نوکری سے نکالاگیا اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے۔
عدالت سنگل بینچ کا فیصلہ اوربیوہ کو نوکری سے نکالنےکا نوٹیفکیشن کالعدم قراردیتی ہے، عدالت بیوہ زویا اسلام کی اپیل کو منظور کرتی ہے۔
مزید پڑھیں:ثنا جاویدکی بولڈ تصاویر سوشل میڈیاپروائرل،اداکارہ کوتنقید کاسامنا


