غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے اٹامک انرجی کمیشن (سی ای اے) کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا کا طاقتور ترین ایم آر آئی اسکینر تیار کرلیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی محققین نے پہلی بار 2021 میں کدو کو اس اسکینر سے اسکین کرکے دیکھا۔ تاہم اب محکمہ صحت کے حکام نے انہیں یہ مشین انسانوں پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد فرانسیسی محققین نے اس مشین کو انسانوں پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 20 صحت مند رضاکاروں کو پیرس میں اس طاقتور ایم آر آئی سکینر کے ذریعے لگایا گیا۔
مزید پڑھیں: 2023 میں1 کروڑکے قریب ڈیوائسزڈیٹا چوری کرنے والے وائرس کا شکار ہوئیں،کیسپرسکی رپورٹ میں انکشاف
محققین کی ٹیم میں سے ایک ماہر طبیعیات الیگزینڈر ویگناؤڈ کا کہنا ہے کہ “ہم نے درستگی کی اس سطح کو دیکھا ہے جس تک ہم پہلے کبھی نہیں پہنچے تھے۔”
ان کے مطابق یہ طاقتور مشین ہسپتالوں میں استعمال ہونے والی عام ایم آر آئی مشینوں سے دس گنا زیادہ درستگی کے ساتھ انسانی اعضاء کی تصاویر سکین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جن کی طاقت عموماً تین ٹیسلا سے زیادہ نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ یہ جدید ایم آر آئی سکینر 11.7 ٹیسلا تک انسانی اعضاء کو سکین کر سکتا ہے۔
فرانسیسی محققین کے مطابق، یہ دنیا بھر میں دماغی امراض کا بہتر پتہ لگانے اور علاج کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

