Search
Close this search box.
هفته ,25 جولائی ,2026ء

موبائل بیلنس ٹیکس میں بھاری کٹوتیاں، 100 روپے کے ریچارج پر صارف کو کتنا بیلنس ملتا ہے؟

اسلام آباد: موبائل بیلنس ٹیکس کی بلند شرح نے پاکستان میں پری پیڈ موبائل صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ موجودہ ٹیکس نظام کے تحت 100 روپے کا موبائل بیلنس لوڈ کرانے پر صارف کو پوری رقم استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہوتی، کیونکہ مختلف ٹیکسوں کی مد میں نمایاں کٹوتی کر لی جاتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 100 روپے کے ریچارج پر سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں 13 روپے 4 پیسے کاٹے جاتے ہیں، جس کے بعد صارف کے اکاؤنٹ میں 86 روپے 96 پیسے باقی رہ جاتے ہیں۔

اس کے بعد اسی رقم پر 19.5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں مزید 14 روپے 19 پیسے کی کٹوتی کی جاتی ہے۔ اس طرح 100 روپے کے ریچارج کے بعد صارف کے پاس صرف 72 روپے 77 پیسے کا قابل استعمال بیلنس باقی رہ جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 27 روپے 23 پیسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ مجموعی ٹیکس شرح تقریباً 34.5 فیصد بنتی ہے۔

ٹیلی کام شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز پر عائد ٹیکسوں میں کمی سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے اور ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی بھی بہتر ہوگی۔ ان کے مطابق کم ٹیکس کی صورت میں موبائل انٹرنیٹ، آن لائن تعلیم، ای کامرس اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام کا سب سے زیادہ اثر پری پیڈ صارفین اور کم آمدن رکھنے والے افراد پر پڑ رہا ہے، جو روزمرہ رابطے اور ڈیجیٹل سہولیات کے لیے موبائل فون پر انحصار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں