سکھر: آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافے اور مختلف علاقوں میں الگ الگ نرخ وصول کیے جانے پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دکانداروں کی جانب سے سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عوام کو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ شہر میں آٹے کے بحران کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق سکھر کے مختلف بازاروں میں آٹے کی قیمت ایک جیسی نہیں رہی۔ کئی دکانوں پر فائن آٹا 130 سے 135 روپے فی کلو جبکہ چکی کا آٹا 140 سے 150 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جو کم آمدن والے طبقے کے لیے اضافی مالی بوجھ بن چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور بیشتر دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ادارے قیمتوں پر مؤثر نگرانی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث منافع خوروں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔
دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں گندم پہلے کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر مل رہی ہے، اسی وجہ سے آٹے کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے فی الحال آٹے کے نئے سرکاری نرخ مقرر نہیں کیے گئے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں فوری کارروائی کرتے ہوئے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
ادھر آٹے کی قیمت بڑھنے کے بعد کئی علاقوں میں تندور مالکان نے بھی نان اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

