ممبئی (نیوزڈیسک)نیٹ فلکس کی ٹاپ ریٹڈ ویب سیریز ’ہیرا منڈی‘ میں مشہور ناول پیر کامل کی جھلک نے سب کو حیران کردیا۔
بھارتی ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی سیریز ہیرامنڈی( دا ڈئمنڈ بازار)’ لاہور کی طوائفوں کی زندگیوں پر بننے والی ویب سیریز ہے جس کا نام بھی لاہور کے بازارِ حسن ‘ہیرا منڈی’ پر ہی رکھا گیا۔
ممکنہ طور پر اس ویب سیریز میں برصغیر کی تقسیم سے قبل اور پھر انقلاب کے بعد رونما ہونے والے واقعات اور انکے ہیرامنڈی پر پڑنے والے اثرات عکس بند کیے گئے ہیں۔
ہیرامنڈی ڈائریکٹر کے لیے ایک الگ پروجیکٹ تھا اور اسے اس شکل میں ریلیز ہونے میں کئی سال لگے اور کاسٹ میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔
ڈائریکٹر نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ وہ پاکستانی سُُپر اسٹارز کو بھی اس کی کاسٹ میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
اس سیریز کے نیٹ فلکس میں آنے کے بعد سے ہی دیکھنے والوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے لیکن بے شمار ناولز لکھنے والی پاکستانی مصنفہ عمیرہ احمد کے تبصرے نے نئی بحث چھیڑ دی۔
اس سیریز میں شامل ایک سین جو بظاہر ایک لائبریری میں شُوٹ کیا گیا تھا، میں پیچھے رکھی بہت سی کتابوں میں پیر کامل بھی تھا۔
دیکھنے والوں کی نگاہوں نے اس سین کا اسکرین شوٹ لیا اور سوشل میڈیا پر وائرل کردیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عمیرہ احمد نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ پیر کامل تو 2004 میں شائع ہوا تھا تو یہ تقسیم ہند سے قبل کی سیریز میں کیسے دکھ رہا ہے ؟
عمیرہ احمد نے لکھا کہ پیر کامل آزادی سے پہلے لکھی گئی تھی یا ٹائم ٹریول کوئی اصل چیز ہے؟‘
خیال رہے کہ پیر کامل ایک سپر ہٹ اردو ناول ہے جسے عمیرہ احمد نے تحریر کیا ہے۔ اس ناول کو کلاسک سمجھا جاتا ہے، اسکا انگریزی زبان میں بھی ترجمہ کیا چکا ہے۔


