قاہرہ (ویب ڈیسک) مصر کی معروف فنکارہ سلویٰ محمد علی نے اپنے حالیہ بیانات سے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں سلوا نے اپنی بعد از مرگ وصیت کا انکشاف کیا۔ جس میں لکھا ہے کہ مرنے کے بعد میرا جنازہ مسجد سے پہلے تھیٹر سے اٹھایا جائے۔
سلوا نے مزید کہا کہ وہ نیشنل تھیٹر سے بہت عرصے سے منسلک ہیں۔ اس لیے وہ چاہتی ہے کہ اس کی لاش کو تھیٹر سے اٹھایاجائے اور پھر نماز جنازہ کے لیے مسجد لے جایا جائے۔
فلم تھیٹر نے سلوا کوکئی کامیاب فلموں کا موقع فراہم کیا۔
سلویٰ نے مزید کہا کہ وہ بالائی مصر سے تعلق رکھتی ہیں اور مصری اور بالائی مصری رسوم و رواج سے واقف ہیں، لیکن اس نے ایک وصیت کی جو کچھ لوگوں کو عجیب لگے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نیشنل تھیٹر بہت پسند ہے۔ میں نے اس تھیٹر میں اداکاری کے اپنے خوابوں کو پورا کیا۔ میری بہت سی کامیابیاں اس سے وابستہ ہیں۔
اس نے وضاحت کی کہ وہ موت سے نہیں ڈرتی بلکہ بیماری سے بہت ڈرتی ہے لیکن خدا کی رحمت سے اسے بہت امید ہے کہ وہ کسی سنگین بیماری میں مبتلا نہیں ہو گی۔
جن فنکاروں کے جنازے سٹیج سے اٹھے۔
سلویٰ محمد علی نے انکشاف کیا کہ وہ اس طرح کی وصیت کرنے والی پہلی فنکارہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں واحد فنکار نہیں ہوں جو تھیٹر سے اپنا جنازہ نکالنا چاہتی ہوں۔ کئی دوسرے فنکاروں کے جنازے بھی تھیٹر سے اٹھائے گئے۔ فنکاروں شفیق نورالدین اور توفیق الدقان کے جنازے بھی تھیٹر سے اٹھائے گئے۔
مزیدپڑھیں :فواد خان 8 سال بعد بالی ووڈ میں واپسی کے لیے تیار

