Search
Close this search box.
بدھ ,17 جون ,2026ء

گووندا کی وہ عادت جس سے ڈائریکٹرز ہمیشہ پریشان رہا کرتے تھے

ممبئی(شوبز ڈیسک)1990 کی دہائی میں جب بالی وڈ میں نئے اداکار اپنے قدم جمانے کے لیے سرتوڑ محنت کررہے تھے اور مقابلہ بھی بہت سخت تھا۔ ایسے میں گووندا واحد اداکار تھے جنہوں نے بالی وڈ میں جلد ہی سپراسٹار کا درجہ حاصل کرلیا تھا۔

گووندا کی فلموں کی خاص بات یہ تھی کہ ان کی فلموں میں ناظرین کو وہ سب مل جایا کرتا تھا جس سے فلم کی کہانی انہیں جکڑ کر رکھا کرتی تھی۔

گووندا کی فلموں میں ایکشن سے لیکر کامیڈی اور کامیڈی سے لیکر ڈانس تک کا تڑکا ناظرین کو خوب بھاتا تھا۔ گووندا کی ہر دوسری فلم باکس آفس ہٹ جاتی تھی۔

تاہم گووندا کی ایک عادت ایسی تھی جس سے فلم ڈائریکٹر سمیت پوری کاسٹ ان سے پریشان رہتی تھی۔ گوندا کی یہ عادت سیٹ پر انتہائی تاخیر سے پہنچنے کی تھی۔

گووندا شوٹنگ پر عام طور پر کئی گھنٹے تاخیر سے پہنچتے تھے جس سے ان کے ساتھ کام کرنے والے اداکاروں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوتا تھا۔

1997 میں ریلیز ہونے والی گووندا کی فلم بڑے میاں چھوٹے میاں جہاں ان کے کو اسٹار لیجنڈ امیتابھ بچن تھے۔ امیتابھ بچن جو کہ شوٹنگ پر وقت پر پہنچ جانے کے باعث خاصے مقبول بھی تھے۔

‘بڑے میاں اور چھوٹے میاں‘ کی شوٹنگ کےدوران گوندا کی سیٹ پر تاخیر سے پہنچنے کی عادت کی بنا پر انہیں خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

گووندا کی اس عادت سے سب پریشان تو تھے ہی لیکن یہ بات بھی سب جانتے تھے کہ گوندا ایک وقت میں کئی کئی فلمیں سائن کرلیتے ہیں جس سے وہ ایک وقت میں تمام فلموں میں مکمل وقت نہیں دے پاتے۔

ایک انٹرویو میں گوندا نے خود اقرار کیا تھا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ان کے پاس بیک وقت 70 فلمیں تھیں۔ اس قدر فلمیں سائن کرنے کی وجہ سے وہ فلموں کے سیٹ پر بروقت نہیں پہنچ پاتے تھے۔

جب معروف ہدایتکار ڈیوڈ دھون جن کے ساتھ گووندا نے کئی بہترین فلمیں دیں اور جب ڈیوڈ دھون سے گوندا کی اس عادت سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی اقرار کیا کہ گوندا سیٹ پر بہت تاخیر سے آتے تھے

تاہم ڈیوڈ دھون نے یہ بھی کہا کہ گووندا سیٹ پر تاخیر سے تو آتے تھے لیکن وہ کئی گھنٹوں کا کام کچھ گھنٹوں میں کردیا کرتے تھے اور کام مکمل ہونے کےبعد ہی شوٹنگ سے واپس جاتے تھے۔

گووندا کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ تمام ہی ڈائریکٹرز گوندا کی اس عادت کے باوجود انہیں اپنی فلموں میں کاسٹ کرنے پر مجبور تھے۔ ان کی فلموں میں وہ تمام مسالہ ہوتا تھا جو اس دور کے ناظرین دیکھنا چاہتے تھے۔

گووندا کا اصل نام گووند ارون آہوجا تھا جو انہوں نے انڈسٹری میں آنے کے بعد مختصر کرکے گووندا کرلیا تھا۔ ان کے والدین بھی شوبز سے منسلک تھے۔

گووندا نے اپنے کیرئیر میں 165 فلموں میں کام کیا۔ انہیں 12 فلم فیئر ایوارڈز کے لیے نامزدگی حاصل ہوئی جن میں سے انہوں نے تین فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیے جن میں بہترین کامیڈین کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔

1986 سے لو 86 سے کیرئیر کا آغاز کرنے والے گووندا کی کیمسٹری اس وقت کی اداکاراؤں کرشمہ کپور،جوہی چاولہ روینہ ٹنڈن کے ساتھ خوب بنی۔

گووندا اپنے کیرئیر کو لیکر اس قدر حساس تھے کہ انہوں نے ایک طویل عرصے تک اپنی شادی کو چھپائے رکھا۔ وہ اس کی وجہ یہ بتاتے تھے کہ شادی شدہ ہیرو کی فین فالوونگ کم ہوجاتی ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی شادی کو خفیہ رکھا اور بیٹی کی پیدائش کے بعد شادی کو منظر عام پر لائے۔

ہر کردار میں ڈھل جانے والے گووندا سیاست کی نگری میں بھی کودے اور لوک سبھا کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ تاہم وہ سیاست اور شوبز کو ایک ساتھ برقرار نہیں رکھ سکے اور جلد ہی فلمی پردے سے دور ہوگئے۔

انہوں نے فلموں میں کم بیک کرنے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں وہ ناکام رہے اور کسی فلم کے مرکزی کردار میں کاسٹ نہ ہوسکے۔ اس ضمن میں سلمان خان نے بھی ان کی خاصی مدد کی۔

گووندا ان دنوں بالی وڈ سے مکمل دور ہیں اور انہوں نے حال ہی میں ہندو انتہاپسند جماعت شیو سینا میں شمولیت اختیار کی ہے۔
مزیدپڑھیں :ہانیہ عامر کی کینیڈا کے مداحوں کیلئے بڑی خوشخبری

یہ بھی پڑھیں