Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

فہد مصطفیٰ اور ہانیہ کا وائرل نازیبا سین حقیقت یا کچھ اور؟

کراچی(شوبز ڈیسک)محبت کے سات مراحل کی منظر کشی کرتے پاکستانی ڈرامے ‘کبھی میں کبھی تم’ کا فہد مصطفیٰ اور ہانیہ عامر کے درمیان نازیبا سین نے سب کے ہوش اڑادیے ہیں۔

ٹی آر پی اور ویوز کی گیم میں میدان مارتے ڈرامے ‘کبھی میں کبھی تم’ کی کہانی فرحت اشتیاق نے لکھی ہے جبکہ اس ڈرامے کو پروڈیوس فہد مصطفیٰ نے کیا ہے۔
ڈرامے کی کہانی کا مرکز فہد مصطفیٰ اور ہانیہ عامر کے کردار ‘مصطفیٰ’ اور ‘شرجینا’ ہیں جنکی اچانک شادی پھر دوستے سے محبت تک کا سفر دکھانے کے بعد اب دونوں کے درمیان بڑھتی دوریاں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

ڈرامے کی کہانی محبت کے 7 مراحل پر چلتی دکھا رہے ہیں جو اب چھٹے مرحلے یعنی جنون پر آپہنچی ہے۔

اگرچہ اب تک ڈرامے کی منفرد کہانی سے زیادہ اسٹار کاسٹ کی حقیقت پسند اداکاری کو ناظرین کی جانب سے بے حد پسند کیا جارہا تھا اور ہر سو شرجینا اور مصطفیٰ کے محبت سے بھرے کیوٹ سینز دل جیتتے نظر آرہے تھے وہیں سوشل میڈیا پر ایک ایسا ان دیکھا سین وائرل ہوگیا جو سب کو حیران کرگیا۔
ڈرامے کے وائرل ہونے والے سین میں فہد مصطفیٰ اور ہانیہ عامر ڈرامے کا ایک سین کے شوٹ کے دوران بیڈ پر بیٹھے ہوئے ہیں جس کے بعد دونوں نازیبا حرکت کرتے دکھے۔

یہ سین وائرل ہوتے ہیں ڈراما دیکھنے والوں نے انکشاف کیا کہ یہ سین ڈرامے میں تو دکھایا ہی نہیں گیا اور یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید کاٹ دیا گیا ہو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

وائرل ہونے والا یہ سین کبھی فہد مصطفیٰ اور ہانیہ عامر کے درمیان عکس بند ہوا ہی نہیں ہے کیونکہ یہ سین اے آئی جنریٹڈ ہے۔

اس ویڈیو کو ایڈٹ کرنے والے نامعلوم شخص کو اب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور مداح یہ ڈیمانڈ کرتے نظر آرہے ہیں کہ اس شخص کو ڈھونڈا جائے جس نے یہ حرکت کی ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ‘کسی چھچھورے انسان کا ڈراما دیکھتے ہوئے ایسا سین دیکھنا چاہا ہوگا اس لیے یہ بدتمیزی کی’ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ‘شرم تو آتی ہی نہیں ہے ان لوگوں کو کسی کی بھی ویڈیو کو نازیبا بنادیتے ہیں’۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ‘اتنا غصہ کس بات پر کر رہے ہیں سب، ڈرامے میں بس یہی ہونا رہ گیا ہے باقی سب تو دکھا ہی دیا ہے’۔
مزیدپڑھیں :عالمی عدالت انصاف نے 26 ویں آئینی ترمیم کے بخیئے ادھیڑتے ہو ئے ا سے عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب قرار دے دیا

یہ بھی پڑھیں