لاس اینجلس(شوبز ڈیسک)امریکی اداکارہ و کامیڈین ہنا آئنبنڈر نے کہا کہ ایک یہودی ہونے کے ناطے فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
حال ہی میں ہنا آئنبنڈر نے ایمیز ایوارڈز میں کامیڈی سیریز ’ہیکز‘ کے لیے بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ جیتا، اس سے پہلے وہ چار بار اس ایوارڈ کے لیے نامزد ہو چکی ہیں۔
ایوارڈ وصول کرتے وقت ہنا نے کہا کہ فلسطین کو آزاد کریں، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
“Go Birds, F*** ICE and Free Palestine”
– Hannah Einbinder during her #EMMYs speech
pic.twitter.com/k8H6LdKnL6— Film Updates (@FilmUpdates) September 15, 2025
ویرائٹی کو دیے گئے انٹرویو میں ہنا نے وضاحت دی کہ ایک یہودی ہونے کے ناطے وہ اس معاملے پر بات کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے کچھ دوست غزہ میں فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر کام کر رہے ہیں، جیسے کہ ڈاکٹر جو حاملہ خواتین اور بچوں کی مدد کر رہے ہیں اور پناہ گزین کیمپوں میں اسکول قائم کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ ان کے دل کے بہت قریب ہے اور ایک یہودی ہونے کے ناطے ان کا فرض ہے کہ وہ یہ واضح کریں کہ ہمارا مذہب اور ثقافت ایک اہم اور طویل عرصے سے قائم رہنے والی شے ہے، جو اس نسلی ریاست سے بالکل الگ ہے۔
اداکارہ نے فلم ورکرز فار فلسطین بائیکاٹ کے بارے میں بھی بات کی اور بتایا کہ یہ بائیکاٹ افراد کے خلاف نہیں بلکہ ان اداروں کے خلاف ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے مظالم میں براہ راست شامل ہیں۔
Hannah Einbinder on saying "Free Palestine" in her Emmys acceptance speech.
"It is my obligation as a Jewish person to distinguish Jews from the state of Israel. Our religion and our culture is such an important and long-standing institution that is really separate to this sort… pic.twitter.com/FNVTji7VC3
— Variety (@Variety) September 15, 2025
مزیدپڑھیں:ایمان مزاری نے ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایت جمع کروادی

