Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

خلیج تعاون کونسل کا ایران کو سخت انتباہ، ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا

ریاض: خلیج تعاون کونسل ایران انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ کیا گیا تو اسے تمام رکن ممالک پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ کونسل نے آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور کسی بھی جارحیت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق خلیج تعاون کونسل ایران انتباہ کے تحت واضح کیا گیا ہے کہ کسی ایک خلیجی ریاست پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق خلیجی ممالک کو انفرادی اور اجتماعی دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔

جی سی سی نے آبنائے ہرمز کی سلامتی کو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے کسی بھی یکطرفہ اقدام یا انتظام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ کونسل کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کا تسلسل بین الاقوامی اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اعلامیے میں ایران پر زور دیا گیا کہ وہ پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشتوں پر مکمل عمل درآمد کرے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔

دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے بھی ایران کی جانب سے کویت، بحرین اور اردن پر مبینہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن اور خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں۔ سعودی عرب نے مطالبہ کیا کہ خطے کے ممالک کے خلاف ہر قسم کی جارحانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ یہ بحری راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں