Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

آئی ایم ایف کا انتباہ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ

اسلام آباد: آئی ایم ایف عالمی معیشت کے حوالے سے جاری نئی رپورٹ میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دوبارہ جنگ کے خدشات کو عالمی اقتصادی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں عالمی مہنگائی، توانائی کی فراہمی اور معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف عالمی معیشت کے جائزے میں پاکستان کی معاشی شرح نمو مالی سال 2026-27 کے لیے 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ حکومت نے اسی مدت کے لیے 4 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ ادارے نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معاشی رفتار میں معمولی سست روی کی بھی پیش گوئی کی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی افراطِ زر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2026 کے دوران عالمی مہنگائی 4.7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ خام تیل کی اوسط قیمت 89 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تعطل پیدا ہوا تو عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں، صنعتوں اور تجارتی سرگرمیوں پر مرتب ہوں گے۔

رپورٹ میں عالمی معیشت کی مجموعی شرح نمو 2026 کے دوران 3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو مستقبل میں عالمی اقتصادی ترقی کے لیے ایک مثبت عنصر قرار دیا ہے، جو پیداواری صلاحیت اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری لا سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال خطے کے کئی ممالک کی معیشت پر دباؤ بڑھا رہی ہے، جبکہ عراق، کویت اور قطر کو بھی رواں سال معاشی سکڑاؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں