معروف پاکستانی اداکارہ اور میزبان جویریہ سعود نے ایک خصوصی رمضان نشریات کے دوران ایک حیران کن واقعہ بیان کیا۔ جویریہ سعود جنات واقعہ سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ کئی سال پہلے ماہ رمضان میں پیش آیا تھا۔
رمضان میں عبادات کا معمول
جویریہ سعود کے مطابق اگر وہ رمضان نشریات کی میزبانی نہ کریں تو اعتکاف میں بیٹھتی ہیں۔ وہ سونے سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت چلا دیتی ہیں تاکہ رات بھر تلاوت کی آواز سنائی دیتی رہے۔
انہوں نے کہا کہ جویریہ سعود جنات واقعہ اسی دوران پیش آیا۔
رات کے وقت عجیب صورتحال
اداکارہ کے مطابق یہ رمضان کے بارہویں یا تیرہویں روزے کی رات تھی۔ اس وقت سورۃ البقرہ کی تلاوت چل رہی تھی جب اچانک ان کی آنکھ کھل گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس لمحے ان کے ہاتھ اور پاؤں حرکت نہیں کر رہے تھے جبکہ سردی کی رات کے باوجود انہیں شدید پسینہ آ رہا تھا۔
اپنا ہی عکس نظر آیا
جویریہ سعود نے بتایا کہ انہیں اپنے سامنے اپنا ہی عکس دکھائی دیا۔ وہی اسکارف اس عکس نے بھی اوڑھ رکھا تھا جو انہوں نے پہنا ہوا تھا۔
وہ کچھ کہنا چاہتی تھیں لیکن بول نہیں پارہی تھیں۔ ان کے مطابق اس عکس نے مردانہ آواز میں ایک نام لیا اور کہا کہ اسے بھیجا گیا ہے اور پوچھا کہ آپ کو کیا چاہیے۔
قرآنی آیات کی تلاوت
انہوں نے بتایا کہ آواز نہ نکلنے کی وجہ سے انہوں نے دل ہی دل میں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھنا شروع کردیں۔
جب وہ جملہ دوبارہ دہرایا گیا تو انہوں نے مزید آیات پڑھیں اور تیسری بار تک آیت الکرسی بھی پڑھ چکی تھیں۔
واقعہ اچانک ختم ہوگیا
جویریہ سعود کے مطابق اس کے بعد وہ عکس اچانک غائب ہوگیا۔ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے جسم میں سے کرنٹ گزرا اور پاؤں کے راستے کوئی چیز نکل گئی۔
انہوں نے کہا کہ وہ مکمل ہوش میں تھیں۔ بعد میں اٹھ کر منہ ہاتھ دھویا، دوبارہ وضو کیا اور پھر سو گئیں۔ تاہم آج تک انہیں سمجھ نہیں آسکا کہ اس رات اصل میں کیا ہوا تھا۔