انقرہ (اوصاف نیوز)ترکی سے ایک انتہائی دل خراش اور افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک معروف ترک سوشل میڈیا انفلوئنسر کبریٰ کارااصلان نے پل سے چھلانگ لگا دی اور اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس کیس کے چشم دید گواہان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عثمان غازی پل پر پیش آیا جو گیبزے کے علاقے میں واقع ہے اور عوام کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔
اکیس سالہ نوجوان کبریٰ اپنی لائف اسٹائل ویڈیوز اور فٹبال سے لگاؤ کی وجہ سے لاکھوں دلوں میں گھر کر چکی تھیں لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اندرونی طور پر کس قدر کرب سے گزر رہی ہیں۔ چھبیس مارچ دو ہزار چھبیس کی اس دوپہر کو جب انہوں نے حفاظتی جنگلے پر چڑھنے کی کوشش کی تو وہاں موجود ڈرائیوروں نے اپنی گاڑیاں روک کر انہیں منانے اور نیچے اتارنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ جان لیوا فیصلہ کر چکی تھیں۔
وائرل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد شہری انہیں روکنے کے لیے آوازیں دے رہے ہیں اور منانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر کبریٰ نے کسی کی ایک نہ سنی اور گہرے پانیوں میں کود گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں پانی سے نکالا اور طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال لے گئیں مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ جب انہیں لایا گیا تو ان کی نبض ابھر نہیں رہی تھی۔ ترک سوشل میڈیا انفلوئنسر کبریٰ کارااصلان نے پل سے چھلانگ لگا دی جس کے بعد ان کے مداحوں میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور لوگ اس پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ اکثر اپنی پوسٹس میں مقامی فٹبال کلب کی حمایت کرتی تھیں اور ان کی خوش مزاجی کی وجہ سے ان کے فالوورز کی تعداد ہزاروں میں تھی۔
پولیس اب اس معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آخر ایسی کیا وجہ تھی جس نے اتنی کامیاب اور نوجوان لڑکی کو اس انتہائی قدم پر مجبور کیا۔ ان کے خاندان اور قریبی دوستوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ ان کی ذہنی حالت اور حالیہ دنوں کی سرگرمیوں کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والے پرانی یادیں تازہ کر رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔ یہ واقعہ انقرہ سمیت پورے ملک میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور ہر آنکھ اس جواں مرگ موت پر اشکبار ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت اور افغانستان کا پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا آپریشن بے نقاب
