پیرس اولمپکس کے جیولن تھرو کے مقابلے میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے قومی ہیرو ارشد ندیم کا کہنا ہے کہ قوم کا پیار دیکھ کر مجھے تو خوشی کے مارے نیند ہی نہیں آ رہی۔پیرس اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کا کہنا تھا ٹوکیو اولمپکس کے بعد پیرس اولمپکس کے لیے بہت محنت کی تھی، 2016 میں پہلا انٹرنیشنل ایونٹ کھیلا، 8 اگست کو محنت کا پھل ملا۔
ارشد ندیم کا کہنا تھا میرے کوچ سلمان بٹ نے بہت ساتھ دیا، انہوں نے مجھے ہمت نہیں ہارنے دی، فیلڈنگ بڑی اچھی تھی، ٹریننگ کی بہت کی تھی اور پیچھے پوری قوم کی دعائیں اتنی زیادہ تھیں کہ مجھے پوری امید تھی اس بار گولڈ میڈل جیتوں گا۔میری ہر بار کوشش ہوتی ہے کہ بہتر سے بہتر کروں، پہلی تھرو میں جب رنر اپ تھوڑا خراب ہوا تو فاؤل کر دیا تاکہ انجری نہ ہو اور پھر اگلی تھرو میں محنت کی اور اللہ کے فضل سے ریکارڈ تھرو ہوئی۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب دوسری تھرو کی 92 کی تو اسی وقت 90 فیصد یقین ہو گیا تھا کہ گولڈ میرا ہی ہے لیکن اس مقابلے میں ورلڈ چیمپئن شریک تھے اسی لیے آخری دم تک محنت جاری رکھی اور محنت کا صلہ بھی ملا۔
حکومتی سپورٹ ملنے کے حوالے سے سوال پر ارشد ندیم کا کہنا تھا حکومت، پنجاب اسپورٹس بورڈ اور فیڈریشن کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ سب نے میرا ساتھ دیا، میرے کیرئیر میں واپڈا کا بھی بڑا کردار ہے کہ انہوں نے بہت سپورٹ کی اور مجھے نوکری فراہم کی۔قومی ہیرو کا کہنا تھا جیولن کے حوالے سے کچھ باتیں تھیں بھی اور کچھ نہیں بھی تھیں، لیکن میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
خیبر پختونخوا حکومت کیجانب سےصحت کارڈ کیلئے مزید 3 ارب روپے جاری
