Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

صہیب مقصود کے ساتھ بڑا کار فراڈ،مریم نواز سے مدد کی اپیل

لاہور( اوصاف نیوز)پاکستانی کرکٹر صہیب مقصود کے ساتھ گاڑی فروخت کرتے ہوئے بڑا مالی فراڈ ہوا، جس کے لیے انہوں نے پنجاب حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صہیب مقصود نے دھوکہ دہی کی وضاحت کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی۔

کرکٹر کا کہنا تھا کہ ‘میں نے 9 ماہ قبل اپنی پرانی گاڑی ملتان کے ایک شوروم کے ذریعے فروخت کی تھی، گاڑی خریدنے والے شخص نے 60 لاکھ روپے ادا کرنے کے بعد مجھ سے گاڑی لے لی اور کہا کہ باقی ادائیگی کے ساتھ گاڑی کے کاغذات مجھ سے لے لیں گے۔’

کرکٹر کے مطابق، ‘اس کے بعد میں اس شخص سے 8 ماہ تک پیسے مانگتا رہا لیکن مجھے کوئی نہیں دیا گیا، جس کے بعد میں نے گاڑی کو ٹریک کیا اور لاہور میں اس کے مالک کے پاس پہنچا۔ جب میں نے وہاں جا کر اسے بتایا کہ یہ میری گاڑی ہے جس کی قیمت مجھے نہیں ملی اور اس کے کاغذات ابھی تک میرے پاس موجود ہیں تو اس نے کہا کہ یہ گاڑی ہم پہلے ہی خرید چکے ہیں۔ میرے اصرار پر اس نے میرے ساتھ بدتمیزی کی۔‘‘

صہیب مقصود کا مزید کہنا تھا کہ ‘بعد میں جس شخص نے مجھے شوروم سے گاڑی خریدی تھی، اس نے کہا کہ ‘ہم ان کے دیے گئے 60 لاکھ واپس کر دیں گے اور گاڑی واپس لے آئیں گے’ جب ہم رقم لے کر دوبارہ لاہور پہنچے تو یہ لوگ اپنے سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے مجھ سے بہت ضدی تھے اور کہتے تھے کہ اس گاڑی کو کوئی ہاتھ تک نہیں لگا سکتا۔

کرکٹر نے سوال کیا کہ ’اگر کسی کے چچا یا ماموں سیاستدان ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عام آدمی کی محنت سے بنی چیزیں کوئی چھین سکتا ہے؟ اس کے بعد مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ میں اس کار کو پیسے دے کر خالی کر دوں کیونکہ لوگ مجھے میری گاڑی واپس نہیں دیں گے۔ اس کے بعد ان لوگوں نے مجھ سے 70 لاکھ روپے لے کر مجھے فارچیونر کار دی جس کے بعد اس گاڑی کے کاغذات جعلی نکلے تو میں نے وہ گاڑی واپس کردی۔ اب میرے 70 لاکھ روپے بھی ان لوگوں کے پاس ہیں اور میری پہلے فروخت ہونے والی گاڑی کی رقم 15 لاکھ روپے ہے۔ صہیب مقصود نے اپنی ویڈیو میں درخواست کی کہ ‘اگر میں کرکٹر کی حیثیت سے ان لوگوں کے سامنے بے بس ہوں تو اس صورتحال میں ایک عام آدمی کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ میں عدالتوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا، اس لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، پنجاب پولیس اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں میری مدد کریں۔
مزید پڑھیں‌:سربراہ پاک فضائیہ کا دورہ رومانیہ،دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

یہ بھی پڑھیں