Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

ٹی20 ورلڈ کپ کا ممکنہ بائیکاٹ، کیا آئی سی سی پاکستان کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتا ہے؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ٹی20 ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ کے معاملے پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کو خوفزدہ کرنے اور کڑی کارروائیوں کی دھمکیاں دینے کی مہم شروع کردی ہے، تاہم یہ کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان ورلڈ ٹی20 کا بائیکاٹ کرتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور اس کا اثر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر بھی پڑ سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی کی ہدایت پر مختلف کرکٹ بورڈز اپنے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان کی دستبرداری کی صورت میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سخت اور سنگین کارروائی کر سکتی ہے۔

بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کے حالیہ بیانات سے ناخوش ہے، جن میں انہوں نے بنگلہ دیشی موقف کی کھل کر حمایت کی تھی۔

دوسری جانب اسپورٹس جرنلسٹ فیضان لاکھانی نے بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئی سی سی کھلاڑیوں کو مختلف لیگز کھیلنے کے لیے این او سی جاری نہیں کرتی، بلکہ یہ اختیار کھلاڑیوں کے اپنے متعلقہ ہوم بورڈز کے پاس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسی طرح ایشیا کپ کی میزبانی کا فیصلہ بھی آئی سی سی نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کرتی ہے، جس کی سربراہی اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس ہے۔


فیضان لاکھانی کے مطابق آئی سی سی دو طرفہ سیریز کا شیڈول بھی تیار نہیں کرتی، بلکہ یہ فیصلے باہمی طور پر متعلقہ ممالک کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی سی سی آخر پاکستان کے خلاف کس بنیاد پر کوئی فیصلہ کر سکتی ہے۔

’اگر پاکستان ٹیم کو حکومتی سطح پر شرکت سے روکا جاتا ہے تو آئی سی سی کے پاس عملی طور پر بہت کم اختیارات رہ جاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ اس حوالے سے ماضی میں واضح مثالیں موجود ہیں، جب دیگر ٹیموں نے بھی اپنی حکومتوں کے مشورے پر عمل کیا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اسپورٹس جرنلسٹ کے مطابق جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی20 سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان پر پابندیاں عائد کرے گی، وہ غلطی پر ہیں۔

واضح رہے کہ فیضان لاکھانی نے ذاتی طور پر اس بات کی حمایت نہیں کی کہ پاکستان کو ورلڈ ٹی20 سے دستبردار ہونا چاہیے، تاہم ان کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلایا جانے والا خوف اور دباؤ بے بنیاد ہے۔
مزیدپڑھیں:زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.2 ریکارڈ

یہ بھی پڑھیں