نیویارک (نیوزڈیسک)ریاستہائے متحدہ (یو ایس) کا محکمہ انصاف 20 ملین ڈالر سے زائد مالیتی (DOJ) Alphabet Inc (Google) کروم براؤزر فروخت کرنے کیلئے تیار ہے ، عالمی رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام اگست میں ایک امریکی جج کے اس فیصلے کے بعد کیا گیا جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ گوگل نے سرچ انجن مارکیٹ پر غیر قانونی طور پر اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔
DOJ کی درخواست ایک بڑی عدم اعتماد کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد گوگل کی مارکیٹ پرغلبے سے متعلق خدشات کو دور کرنا ہے۔ کروم کی مجوزہ فروخت کیساتھ ساتھ محکمہ مصنوعی ذہانت (AI) اور اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم سے متعلق ریگولیٹری اقدامات کیلئے بھی تیاری کررہا ہے .
ایسی صورتحال میںجب کروم برواوز کو ہٹادیا جائے گا تو عالمی سطح پر اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے جبکہ کروم براؤزر کو ہٹانا گوگل کیلئے بھی ایک اہم چیلنج بن جائے گا، کیونکہ براؤزر اس کی خدمات کے مجموعہ کا لازمی جزو ہے۔
کروم نہ صرف گوگل کی دیگر سروسز، جیسے کہ گوگل سرچ، جی میل اور گوگل ڈرائیو تک بنیادی رسائی پوائنٹس کے طور پر کام کرتا ہے، بلکہ یہ اشتہاری آمدنی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے صارف کے ڈیٹا کی بھاری مقدار میں جاسوسی اور جمع بھی کرتا ہے۔
فی الحال، کروم کے پاس عالمی براؤزر مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ ہے، تقریباً دو تہائی انٹرنیٹ صارفین اسے استعمال کرتے ہیں۔اس کے برعکس، اس کی حریف، سفاری، کل مارکیٹ شیئر کا صرف 18 فیصد رکھتی ہے۔
