اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر تخلیقی AI امیجز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نینو بنانا سے لے کر AI ساڑھی، مشہور شخصیات کے پولاروائڈز اور دیگر رجحانات میں لوگ اپنی تصاویر اپ لوڈ کرکے نت نئے تجربات کر رہے ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ذاتی تصاویر کو AI امیج جنریٹرز پر اپ لوڈ کرنے کے سنگین نقصانات بھی ہیں جو پرائیویسی کے نقصان سے لے کر معاشرتی مسائل تک پھیل سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ آپ کی تصاویر کو استعمال کرکے جعلی اور گمراہ کن ڈیپ فیکس بنائے جا سکتے ہیں جو ہراسگی، بلیک میلنگ یا شناخت کی چوری جیسے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔
دوسرا بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایک بار تصویر اپ لوڈ کرنے کے بعد صارف اپنے ہی چہرے اور شناخت پر کنٹرول کھو دیتا ہے۔ آپ کی تصاویر کو کسی بھی تناظر میں بغیر اجازت استعمال کیا جا سکتا ہے، چاہے وہ پرتشدد یا غیر اخلاقی مواد ہو۔
مزید یہ کہ ایسے رجحانات کی وجہ سے اصلی اور نقلی تصاویر میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس سے صحافت، اشتہارات اور بصری ذرائع پر مبنی دیگر شعبوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایک اور بڑا خدشہ یہ ہے کہ کمپنیاں صارفین کی تصاویر کو بغیر کسی اطلاع یا اجازت کے تجارتی مقاصد کے لیے یا دیگر AI ماڈلز کی تربیت میں استعمال کرسکتی ہیں۔
پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے بھی تشویش موجود ہے کیونکہ تصاویر کے ذریعے بایومیٹرک معلومات جیسے چہرے کے نقوش اور مقامات تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان معلومات کو محفوظ کرنے کے بعد بعض کمپنیاں انہیں تیسرے فریق کے ساتھ شیئر یا فروخت بھی کرسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ AI سسٹمز میں پائے جانے والے تعصبات ان تصاویر کے ذریعے مزید بڑھ سکتے ہیں، جس سے صنفی یا نسلی امتیاز پر مبنی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اسی لیے صارفین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی تصاویر کسی بھی AI امیج جنریٹر پر اپ لوڈ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچیں اور ان خطرات کو ذہن میں رکھیں۔
مزیدپڑھیں::متنازع ٹوئٹ کیس : ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے وارنٹ گرفتاری جاری

