بجنور (نیوز ڈیسک) اتر پردیش کے بجنور سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون نے اپنے دو دیوروں پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ متاثرہ خاتون، فاطمہ پروین، کا دعویٰ ہے کہ جب وہ باتھ روم میں نہا رہی تھیں، تو ان کے دو دیوروں نے چپکے سے ان کا ویڈیو موبائل پر بنا لیا۔ یہ ویڈیو بناتے ہی دونوں دیور ان کے کمرے میں داخل ہو گئے، جس سے خاتون کے ہوش اُڑ گئے۔
فاطمہ پروین کے مطابق، جب انہوں نے دیوروں کو سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے الٹا دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ دیوروں نے کہا کہ اگر انہوں نے اس واقعہ کے بارے میں کسی کو بتایا تو وہ ان کی ویڈیو وائرل کر دیں گے۔ خاتون نے مزید بتایا کہ دیوروں نے ان کے ساتھ بدتمیزی بھی کی، جس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کو اس واقعہ سے آگاہ کیا۔
خاتون کا الزام ہے کہ جب انہوں نے اپنے شوہر کو دیوروں کی حرکتوں کے بارے میں بتایا تو ان کے شوہر نے نہ صرف ان کی بات کو نظرانداز کیا بلکہ تین طلاق دے کر انہیں گھر سے بھی نکال دیا۔ فاطمہ پروین نے کہا کہ یہ صورتحال ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی کیونکہ انہیں نہ صرف دیوروں کے غیر اخلاقی رویے کا سامنا کرنا پڑا بلکہ شوہر کے طلاق دینے کے بعد وہ مزید مشکلات میں گھر گئیں۔
فاطمہ پروین کی والدہ فریدہ خاتون کا کہنا ہے کہ تین سال پہلے انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی مسلم رسم و رواج کے مطابق گلبہار گاؤں موسی پور کے رہائشی سے کی تھی۔ شادی کے بعد سے ہی ان کے داماد نے جہیز کا مطالبہ شروع کر دیا تھا، جس سے خاندان میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
اب، اس تمام واقعہ کے بعد فاطمہ پروین نے بجنور کے شیرکوٹ تھانہ میں رپورٹ درج کروا دی ہے اور انصاف کے لیے ایس پی ابھیشیک اور نگینہ کے کورٹ مجسٹریٹ سے اپیل کی ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے دیوروں اور شوہر کے خلاف کارروائی اور انصاف کی امید ہے۔
مزیدپڑھیں :ویڈیو میں کے پی ہاؤس سے واپس جانیوالے علی امین نہیں بلکہ کون ہیں؟جانیں
