لاتور (مہاراشٹر) لاتور ضلع کے پورنمل لاہوٹی پولی ٹیکنک گرلز ہاسٹل میں فوڈ پوائزننگ کا ایک سنگین واقعہ پیش آیا ہے، جہاں رات کے کھانے کے بعد 50 سے زائد لڑکیوں کی طبیعت بگڑ گئی۔ ہفتہ کی رات کھانے کے دوران چھپکلی کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد حالات اور بھی خراب ہو گئے۔ کھانے کے بعد لڑکیوں نے الٹیوں اور جسمانی تکالیف کی شکایت کی، جس کے بعد انہیں فوراً قریبی سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق، تقریباً رات 9 بجے لڑکیوں کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی، لیکن اس وقت کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی۔ تاہم، رات تقریباً 12 بجے حالات بگڑنے لگے اور متعدد لڑکیوں کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ فوراً ہی لڑکیوں کو ولاس راؤ دیش مکھ گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال لے جایا گیا، جہاں انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ خوش قسمتی سے، زیادہ تر لڑکیوں کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے اور علاج کے بعد انہیں ہاسٹل واپس بھیج دیا گیا۔
اس دوران دو لڑکیوں کی حالت تشویشناک تھی اور انہیں اسپتال میں زیر نگرانی رکھا گیا، تاہم اب ان کی صحت میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ لاتور کے ضلع مجسٹریٹ نے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور کھانے کے معیار اور ہاسٹل کے حالات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
لاتور کے ایم پی، ڈاکٹر شیواجی کالگے نے میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور متاثرہ طالبات سے ملاقات کی۔ انہوں نے ضلع کلکٹر ورشا ٹھاکر گھوگے سے بھی بات چیت کی اور فوری طور پر محکمہ صحت کو الرٹ کر دیا گیا۔ ایم پی کالگے نے طالبات کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ تمام متاثرہ لڑکیوں کی حالت اب مستحکم ہے اور وہ جلد ہی مکمل صحت یاب ہو جائیں گی۔ اس واقعے کے بعد ضلع انتظامیہ متحرک ہو چکی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ کھانے میں حفظان صحت کے ناقص معیار کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے طالبات کی صحت شدید متاثر ہوئی۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کھانے میں چھپکلی کیسے شامل ہوئی اور اس واقعے کے ذمہ دار کون ہیں۔
مزیدپڑھیں :شاہ سلمان ریلیف سینٹر اور پاکستان کے درمیان امدادی منصوبوں کے معاہدوں کی تیاریاں مکمل


