واشنگٹن (نیوزڈیسک)اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ۔ لبنان میں جنگ بندی کا نفاذ صبح 7 بجے سے ہوگا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی کی تجویز مان لی، معاہدے سے دشمنی کا مستقل خاتمہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکہ غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے ترکیہ، مصر، قطر، اسرائیل، اور دیگر ممالک کے ساتھ اضافی کوششیں کرے گا، یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ جنگ کے خاتمہ اور حماس کو اقتدار سے باہر رکھنے سے جنگ بندی کا حصول ممکن ہوجائے گا۔
گزشتہ روز جو بائیڈن نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کو “اچھی خبر” قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ 13 ماہ سے زائد عرصے سے جاری لڑائی میں وقفہ غزہ میں بھی جنگ کے خاتمے کیلئے ایک ترغیب ثابت ہو گا۔
قبل ازیں اسرائیل کی کابینہ نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی منظوری دے دی۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان سے جنگ بندی معاہدے کی منظوری کے بعد خطاب میں کہا کہ ہم غزہ سے باقی ماندہ یرغمالیوں کی واپسی کے لیے پرعزم ہیں، ہم نے حزب اللہ کو دہائیاں پیچھے دھکیل دیا ہے، جنگ کے دوران اپنے بہت سے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ادھر اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے تحت اسرائیل جنوبی لبنان پر حملہ کرنے کی صلاحیت برقرار رکھے گا، لبنان اس سے قبل بھی اسرائیل کو ایسا حق دینے والے کسی بھی معاہدے کے الفاظ پر اعتراض کرتا رہا ہے۔واضح رہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 3 ہزا ر 768 شہری شہید، 15 ہزار 699 زخمی ہو چکے ہیں۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔سسیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ یہ معاہدہ تشدد، تکالیف اور تباہی کا خاتمہ کر سکتا ہے جس کا سامنا دونوں ممالک کر رہے ہیں۔
گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ قیمت 550 سے تجاوز



