سپین کے وزیر خارجہ جوزے مانوئل الباریس نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق الباریس نے کہا “یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، ہمیں اسرائیل پر اسلحے کی پابندی عائد کرنی چاہیے، جنگ جاری رہتے ہوئے اسے ہتھیار نہیں بیچنے چاہییں۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک جرأت مندانہ موقف ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ خود سپین نے 2024 میں اسرائیل کو محض 17 لاکھ یورو کا اسلحہ فروخت کیا تھا، جو اسرائیل کی کل اسلحہ درآمدات کا صرف 0.01 فیصد بنتا ہے۔
سپینی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ موجودہ تنازع خطے کے استحکام کے لیے “سنگین خطرہ” بن چکا ہے۔


