Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

بھارت بڑے یورپی ملک کی کمپنی کے ساتھ فائٹر جیٹ کے انجن تیار کرے گا

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت فرانس کی ایک کمپنی کے ساتھ مل کر لڑاکا طیاروں کے انجن ملک کے اندر ہی تیار کرے گا۔ یہ اقدام بھارت کی دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

راجناتھ سنگھ نے اس سال مئی میں ففتھ جنریشن ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایئرکرافٹ (AMCA) کے پروٹوٹائپ کی منظوری دی تھی، جسے انہوں نے بھارت کی مقامی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے سنگِ میل قرار دیا تھا۔

نئی دہلی میں ایک دفاعی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا:
“ہم بھارت میں ہی لڑاکا طیاروں کے انجن بنانے کی سمت بڑھ رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک فرانسیسی کمپنی کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔”

اگرچہ راجناتھ سنگھ نے کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم بھارتی میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ یہ کمپنی سیفران (Safran) ہے، جو کئی دہائیوں سے بھارت کے فضائی اور دفاعی شعبے میں کام کر رہی ہے۔

بھارت، جو دنیا کے بڑے ہتھیار درآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، گزشتہ چند برسوں میں دفاعی شعبے میں خود کفالت کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ اس دوران مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ دفاعی تعاون بھی مضبوط کیا گیا ہے۔

چند ماہ قبل بھارت نے فرانس کی ڈاسو ایوی ایشن کے ساتھ 26 رافال لڑاکا طیاروں کی خریداری کے اربوں ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ طیارے روسی میگ-29 کو مرحلہ وار ریٹائر کرنے کے بعد بھارتی فضائیہ کا حصہ بنیں گے۔ اس سے قبل بھارت 36 رافال طیارے خرید چکا ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ 2033 تک بھارت میں کم از کم 100 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی سازوسامان کی تیاری کے معاہدے کیے جائیں گے، تاکہ ہتھیار سازی کے شعبے میں مقامی صنعت کو فروغ مل سکے۔
مزیدپڑھیں:تنخواہوں سے کٹوتی ! سرکاری ملازمین کے لیے اہم خبر آگئی

یہ بھی پڑھیں