چین(نیوز ڈیسک) چین نے خطرناک سمندری طوفان ریگاسا کے پیشِ نظر بڑے پیمانے پر ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے 10 شہروں میں اسکولوں اور کاروباری سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کر دیا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ طاقتور طوفان کروڑوں افراد کو متاثر کر سکتا ہے جبکہ صنعتی مرکز شینزین میں چار لاکھ سے زائد افراد کو فوری طور پر شہر چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایمرجنسی حکام کے مطابق شدید ہواؤں، طوفانی بارش، بلند لہروں اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باعث شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ صرف ریسکیو عملہ اور ضروری خدمات فراہم کرنے والے افراد کو ہی باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔
صوبہ گوانگ ڈونگ کے متاثرہ شہروں میں چاؤژو، ژوہائی، ڈونگ گوان اور فوشان بھی شامل ہیں۔ فوشان کے ایمرجنسی ہیڈکوارٹرز نے خبردار کیا ہے کہ طوفانی ہوائیں اور شدید بارش شہر میں خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
ہانگ کانگ کے موسمیاتی ادارے کے مطابق طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 230 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی ہے۔ خطرے کے پیشِ نظر ہانگ کانگ نے بھی تعلیمی ادارے بند کرنے اور زیادہ تر پروازیں جمعرات تک معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ شہری گھبراہٹ میں ضروری اشیاء ذخیرہ کر رہے ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق گوانگ ڈونگ صوبے سے 7 لاکھ 70 ہزار افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید 10 لاکھ افراد کی نقل مکانی متوقع ہے۔ اب تک طوفان کے باعث 700 سے زائد پروازیں منسوخ یا متاثر ہو چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کی شدت آئندہ گھنٹوں میں مزید بڑھ سکتی ہے، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
مزید پڑھیں۔کولکتہ میں شدید بارشوں کے باعث کم ازکم 12 افراد ہلاک


