نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک)بھارتی فوج کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی نے بھارت کی شور و شغب سے بھرپور فوجی جدید کاری کے منصوبوں کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے اور ملک کے دفاعی ڈھانچے کی کمزوریاں سامنے آ گئی ہیں۔
نریندر مودی کے ’میک ان انڈیا‘ دفاعی عزائم ڈگمگاتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ بھارتی فوج نے اب کھل کر شکوہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ انہیں ہتھیار اور سازوسامان وقت پر فراہم نہیں کیا جا رہا۔
بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے بھی ملکی دفاعی صنعت پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق جنرل انیل چوہان نے کہا کہ نریندر مودی کی بدعنوان قیادت میں دفاعی کمپنیوں نے اربوں روپے کی سرکاری فنڈنگ لینے کے باوجود جدید ہتھیار فراہم کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سامان کی وقت پر فراہمی نہ ہونا بھارت کی صنعتی صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے۔
جنرل چوہان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج مودی کے منافع پر مبنی دفاعی منصوبوں سے قومی جذبے اور حب الوطنی کی توقع رکھتی ہے، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مقامی کمپنیوں کی اصل پیداوار صلاحیت کے بارے میں ایمانداری سے بات کی جائے، کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست قومی سلامتی سے جڑا ہے۔
بھارت کی اعلیٰ فوجی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والی یہ کھلی تنقید اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی فوج کی جدید کاری کے پروگرام میں بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور گہرے اندرونی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:لالو کی بیٹی روہنی نے خاندان سے لاتعلقی کی اصل وجہ بتا دی
