کراچی (نیوز ڈیسک) افریقہ میں سونے پر مبنی کرنسی کے قیام کا منصوبہ پیش کرنے والے لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے 144 ٹن خالص سونے کے ذخائر 2011 کی جنگ کے دوران پراسرار طور پر غائب ہونے کے انکشافات نے عالمی مالیاتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ سونا افریقی کرنسی “گولڈ دینار” کی بنیاد کے طور پر جمع کیا گیا تھا، جس کا مقصد امریکی ڈالر کے اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا۔
رپورٹس کے مطابق قذافی نے 2009 میں افریقی رہنماؤں کے اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ سونے پر مبنی متحدہ افریقی کرنسی متعارف کرائی جائے گی، جو خطے کی معیشت کو ڈالر کے انحصار سے آزاد کرے گی۔ اس منصوبے کے بعد یورپ اور امریکہ میں شدید تشویش پائی گئی۔
2011 میں نیٹو کی مداخلت اور لیبیا میں حکومت کے خاتمے کے بعد بیلجیئم کے مرکزی بینک سمیت مختلف محفوظ خانوں سے قذافی کا ذخیرہ کردہ سونا غائب ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کسی سرکاری ادارے نے سونے کی چوری کا الزام عائد نہیں کیا، تاہم جنگ کے آخری مہینوں میں سونا کہیں منتقل کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس منتقلی کے حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت آج تک سامنے نہیں آئی۔
اقوام متحدہ نے جنگ کے دوران لیبیا کے 152 ارب ڈالر کے غیر ملکی اثاثے منجمد کیے تھے جن میں سے صرف 20 ارب ڈالر بعد میں بحال کیے گئے۔ باقی اثاثے تاحال قانونی تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب عالمی سطح پر سونا جمع کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق 2024 تک سب سے زیادہ سونا امریکہ (8133 ٹن)، جرمنی (3352 ٹن)، اٹلی (2451 ٹن)، فرانس (2436 ٹن)، روس (2350 ٹن) اور چین (2264 ٹن) کے پاس موجود ہے۔ چین اور روس گزشتہ برسوں میں سب سے بڑے خریدار رہے، جنہیں ماہرین ڈالر کے اثر میں کمی کی عالمی پالیسی سے جوڑتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بتدریج ملٹی کرنسی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ برکس ممالک بھی متبادل کرنسی کے لیے سونا جمع کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ دہائیوں میں ڈالر کی بالادستی کم ہونے کا امکان ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قذافی کا منصوبہ اس وقت ناکام ہوا تھا، تاہم موجودہ عالمی پیش رفت بتا رہی ہے کہ سونے پر مبنی مالیاتی ڈھانچے کا تصور اب ایک مرتبہ پھر عالمی معیشت میں اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:کراچی،میپ کے زیراہتمام40ویں کارپوریٹ ایکسیلینس ایوارڈز کا انعقاد
