Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امریکی حملے کا خدشہ، آیت اللہ خامنہ ای کی مبینہ منتقلی، ایرانی حکام کی تردید

تہران (اوصاف نیوز) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔

ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو ایک مضبوط زیرِ زمین کمپلیکس منتقل کیا گیا ہے، جس میں ایک دوسرے سے منسلک سرنگیں شامل ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ان کی جان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر کے تیسرے بیٹے مسعود خامنہ ای اس وقت دفترِ رہبر کے روزمرہ امور سنبھال رہے ہیں اور حکومت کے انتظامی شعبوں اور سپریم لیڈر کے درمیان مرکزی رابطے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ممبئی میں ایران کے جنرل قونصلر سعید رضا مصیب مطلق نے کہا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں اور سپریم لیڈر کے بنکر میں چھپنے کی خبریں محض افواہیں ہیں۔

سعید رضا نے واضح کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی سیکیورٹی کے لیے حفاظتی انتظامات فطری اور معمول کے مطابق ہیں، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں اعلیٰ قیادت کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر اہم اجلاس ویڈیو کانفرنسنگ اور دیگر جدید ذرائع کے ذریعے منعقد کر رہے ہیں۔

ادھر اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے کہا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم ایرانی افواج پہلے سے کہیں زیادہ تیار اور مکمل چوکنا ہیں۔ انہوں نے امریکی اور اسرائیلی افواج کو کسی بھی غلط اقدام سے باز رہنے کی وارننگ بھی دی ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر کے افسران کو بنیادی تنخواہوں سے دو گنا ریوارڈ دیا جائے گا

یہ بھی پڑھیں