ماسکو(نیوز ڈیسک)روس نے ماسکو میں روسی انٹیلی جینس ایجنسی کے نائب سربراہ پر حملے کے مشتبہ ملزم کو دبئی سے گرفتار کر کے ماسکو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو فون کیا اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ملٹری انٹیلی جنس (جی آر یو) کے نائب سربراہ لیفٹینیٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف پر حملے کے مشتبہ ملزم کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے روس منتقل کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یوکرینی نژاد روسی شہری جمعے کی صبح ماسکو میں واقع ایک گھر میں جنرل الیکسییف پر فائرنگ کے بعد دبئی فرار ہوگیا تھا۔ جہاں اسے متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون سے گرفتار کر کے روس کے حوالے کیا گیا۔
First footage of extradition to Russia of would-be assassin of General Alexeyev
Captured in Dubai with UAE help, the Russian citizen now faces justice
Accomplices include a detained man and a woman who escaped to Ukraine pic.twitter.com/bLRFWFTkRS
— RT (@RT_com) February 8, 2026
روسی حکام کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 60 سالہ جو یوکرینی شہری لیوبومیر کوربا دسمبر کے آخر میں روس پہنچا اور یوکرین کی ایما پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیں۔
روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو فون کیا اور روسی جنرل پر حملے کے مشتبہ ملزم کی گرفتاری میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
On Saturday evening, Vladimir Putin thanked his UAE counterpart, Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, for the Emirati assistance in detaining a suspect in a recent attempt on the life of a senior Russian general, Dmitry Peskov said:https://t.co/V3FN0pmo2p pic.twitter.com/lOhNPhIDX2
— TASS (@tassagency_en) February 8, 2026
روسی تفتیش کاروں کے مطابق جی آر یو کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو جمعے کے روز شمالی ماسکو میں واقع ایک رہائشی عمارت میں سائلنسر لگی پستول سے تین گولیاں ماری گئیں۔ 64 سالہ جنرل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔
روسی حکام کے مطابق روسی جنرل پر حملے میں دو مزید روسی شہری بھی ملوث تھے۔ حملہ آور کے ایک مشتبہ ساتھی وکٹر واسن کو ماسکو میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسری خاتون ساتھی ملزمہ زینائڈا سیری بریتسکایا یوکرین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ یوکرین کی ایما پر کیا گیا تھا تاکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے، تاہم یوکرین نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ یہ واقعہ روس کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہو۔
مزیدپڑھیں:راولپنڈی: دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع، 15 روز کے لیے سخت پابندیاں عائد


