Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات

تہران (نیوز ڈیسک) ایران کے دارالحکومتی علاقے تہران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق حملوں میں نرماک کے علاقے کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا، جہاں محمود احمدی نژاد عہدہ چھوڑنے کے بعد سے رہائش پذیر تھے۔

رپورٹس کے مطابق انہی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز بھی جاں بحق ہوئے۔ نرماک کے رہائشی علاقوں پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں قریبی ہدایت اسکول کے کم از کم دو طلبہ بھی مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق اتوار کے روز بھی ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

69 سالہ محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے اور ان کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ برسوں میں محمود احمدی نژاد حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے نسبتاً اختلافی آواز کے طور پر سامنے آئے تھے، حالانکہ ان کا شمار سخت گیر قدامت پسند رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

دوسری جانب ایرانی حکومت کی جانب سے محمود احمدی نژاد کی ہلاکت کی باضابطہ سرکاری تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ تاہم حملوں کے بعد تہران کے مختلف علاقوں میں صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:ایران نے یورپین یونین کے رکن ملک پر پہلا حملہ کر دیا،تنازعہ یورپ تک پھیلنے کا خطرہ

یہ بھی پڑھیں