Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ملازمین اور پنشنرز کیلئے خوشخبری، میڈیکل الاؤنس 1000 سے بڑھ کر 20 ہزار روپے ہونے کا امکان

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملازمین کی یونینوں نے آٹھویں پے کمیشن سے غیر سی جی ایچ ایس علاقوں میں فکسڈ میڈیکل الاؤنس کو 1000 روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اس وقت ایسے ملازمین اور پنشنرز جو سی جی ایچ ایس (مرکزی حکومت کی صحت اسکیم) کی سہولت سے مستفید نہیں ہو رہے، انہیں طبی اخراجات کے لیے صرف 1000 روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔ ملازم یونینوں اور این سی-جے سی ایم عملے کا مؤقف ہے کہ بڑھتی مہنگائی اور صحت کی سہولیات کے اخراجات میں اضافے کے باعث موجودہ رقم ناکافی ہو چکی ہے۔

یونین رہنماؤں کے مطابق موجودہ حالات میں 1000 روپے میں علاج ممکن نہیں رہا، خصوصاً دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں سرکاری اسپتال یا سی جی ایچ ایس کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ ایسے علاقوں میں رہنے والے افراد کو نجی اسپتالوں سے علاج کروانا پڑتا ہے جس پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس تجویز سے تقریباً ایک کروڑ مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے یہ اضافہ بڑی سہولت ثابت ہوگا۔

آٹھویں پے کمیشن نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور کمیشن کی سربراہی جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کر رہی ہیں۔ ملازمین کی یونینیں اس حوالے سے مشترکہ سفارشات تیار کر رہی ہیں اور ڈرافٹنگ کمیٹی کا اجلاس بھی حال ہی میں منعقد ہوا۔

تاہم یہ صرف ایک تجویز ہے اور حکومت یا پے کمیشن کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مطالبہ منظور ہو گیا تو لاکھوں ملازمین اور پنشنرز کے طبی مسائل میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:نیشنل ٹی ٹوئنٹی کیلئے وینیو ایک بار پھر تبدیل کیوں کیا گیا؟

یہ بھی پڑھیں