بیجنگ(نیوز ڈیسک) چین نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فوجی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے سنگین عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے جمعرات کو بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ“چین ایران کی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے اور اس کے جائز اور قانونی حقوق و مفادات کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔”
چینی ترجمان نے متعلقہ ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال مزید بگڑی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
دوسری جانب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ آذربائیجان نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے اس کے نخچیوان علاقے میں واقع ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ کیا جس کے نتیجے میں کئی شہری زخمی ہوئے۔ تاہم تہران نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کسی ہمسایہ ملک کو نشانہ نہیں بنایا۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معطل
ادھر خلیج میں اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی جہاز رانی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا اس پر فائر کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد کئی جہازوں نے اس راستے سے گزرنا عارضی طور پر روک دیا ہے۔
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
چین کا سفارتی کردار
چین خلیجی ممالک سے توانائی درآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور وہ اس بحران میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیجنگ نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ طاقت کے “من مانے استعمال” سے گریز کیا جائے اور تمام فریق مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔
چینی حکام کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:گلوکار علی ظفر نے نعتیہ کلام ’’سوہنا نبیؐ‘‘ مداحوں کے لیے جاری کر دیا
