تہران(نیوز ڈیسک) ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایک جدید جنگی حکمت عملی “ڈیکوائے وارفیئر” (Decoy Warfare) استعمال کرنا شروع کر دی ہے جس کا مقصد دشمن کے مہنگے ترین دفاعی نظاموں کو سستے نقلی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے الجھانا اور ناکام بنانا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایران اپنے اصلی میزائلوں کے ساتھ بڑی تعداد میں ایسے نقلی میزائل بھی فائر کرتا ہے جن میں بارود نہیں ہوتا، تاہم ان پر ایسا خصوصی مٹیریل لگایا جاتا ہے جو ریڈار کو یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ حقیقی اور خطرناک میزائل ہیں۔ اس طرح دشمن کا دفاعی نظام یہ فیصلہ کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے کہ کون سا ہدف پہلے تباہ کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق ایران اس حکمت عملی کے تحت سیچوریشن اٹیک بھی کرتا ہے، جس میں ایک ہی وقت میں اتنے زیادہ اہداف فضا میں بھیج دیے جاتے ہیں کہ دشمن کا دفاعی نظام بیک وقت سب کو نشانہ بنانے میں مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران دو قسم کے ڈیکوز استعمال کر رہا ہے۔ پہلی قسم انفلیٹیبل اور زمینی ڈیکوز ہیں جو زمین پر نصب کیے جاتے ہیں تاکہ سیٹلائٹ اور دشمن کے ڈرونز کو یہ دھوکہ دیا جا سکے کہ وہاں میزائل لانچر یا فوجی سازوسامان موجود ہے۔ اس طرح دشمن اپنے قیمتی میزائل اور بم ان نقلی اہداف پر ضائع کر دیتا ہے۔
دوسری قسم فلائنگ ڈیکوز کی ہے، جو اصلی میزائلوں کے ساتھ فائر کیے جاتے ہیں اور فضا میں ایسا ریڈار سگنیچر پیدا کرتے ہیں جیسے کئی حقیقی میزائل ایک ساتھ آ رہے ہوں۔
ماہرین کے مطابق ایران کے خرم شہر 4 میزائل میں یہ ٹیکنالوجی سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ اس میزائل کا وارہیڈ فضا میں کھلنے کے بعد ایک اصلی بم کے ساتھ 70 سے 80 چھوٹے دھاتی ٹکڑے خارج کرتا ہے جس سے ریڈار اسکرین پر بیک وقت درجنوں میزائل ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
اسی طرح ایران نے اپنے کچھ پرانے میزائلوں جیسے عماد اور قدر کو بھی ڈیکوز کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ شاہد 238 ڈرون (جو شاہد 136 کا جیٹ ورژن بتایا جاتا ہے) اپنی تیز رفتاری کے باعث اکثر ریڈار کو کروز میزائل جیسا دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی صرف فوجی نہیں بلکہ اقتصادی جنگ بھی ہے۔ ایک سستا ایرانی ڈیکو یا ڈرون تقریباً 20 سے 30 ہزار ڈالر میں تیار ہو جاتا ہے، جبکہ اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک انٹرسیپٹر میزائل 2 سے 3 ملین ڈالر تک کا ہوتا ہے۔ اس طرح دشمن کو مالی طور پر بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے دھوکے کی یہ حکمت عملی زمین پر بھی اختیار کی ہے جہاں بعض ہوائی اڈوں پر جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی نقلی تصاویر پینٹ کی گئی ہیں تاکہ دشمن کے ڈرون انہیں اصلی سمجھ کر نشانہ بنائیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی دفاعی نظام میں 100 میزائل گرانے کی صلاحیت ہو اور اس کے مقابلے میں 200 اہداف بھیج دیے جائیں جن میں سے زیادہ تر نقلی ہوں تو کوئی بھی دفاعی نظام دباؤ میں آ سکتا ہے۔ ایران کی یہ حکمت عملی جدید جنگ میں دھوکے اور کم لاگت کے ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔



