Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

نئے خامنہ ای کا خوف اسرائیل کے سر پر سوار! رجیم چینج کیلئے ایرانی عوام سے مدد مانگ لی

یروشلم(نیوز ڈیسک) اسرائیلی وزیر خارجہ گڈعون ساعر نے کہا ہے کہ ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، اس لیے اسرائیل ایران میں ریجیم چینج کے لیے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے پیش رو علی خامنہ ای سے کسی طرح کم سخت مؤقف نہیں رکھتے۔

یروشلم میں جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفُل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد ایران سے لاحق طویل المدتی خطرات کا خاتمہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ایرانی نظام کے ہوتے ہوئے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے، اس لیے ایسے حالات پیدا کرنا ضروری ہیں جہاں نظام کی تبدیلی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں کسی بھی بڑی سیاسی تبدیلی کے لیے ایرانی عوام کا کردار ناگزیر ہوگا۔ ان کے بقول بیرونی مدد کے بغیر ایرانی عوام کے لیے آزادی حاصل کرنا مشکل ہے، جبکہ عوام کی شمولیت کے بغیر موجودہ نظام کو ہٹانا بھی ممکن نہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ حملے میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اس موقع پر گڈعون ساعر نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان حکومت اور اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس برائے لبنان (یونیفل) اس گروپ کو غیر مسلح کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفُل نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران نے جوہری سرگرمیاں روکنے سے انکار کیا ہے اور اسرائیل کو خطے میں سنگین سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

تاہم ایران بارہا اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی بھی حالیہ دنوں میں کہہ چکے ہیں کہ اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں