Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

شمالی کوریا کا ایران کی حمایت میں سخت بیان، عالمی سیاست میں ہلچل

تہران / پیانگ یانگ(نیوز ڈیسک) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے بارہویں روز شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک سخت بیان جاری کیا ہے جس کے بعد عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کم جونگ ان نے کہا ہے کہ وہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔اپنے بیان میں کم جونگ ان نے ایران کو “مظلوم” جبکہ امریکہ کو “حملہ آور” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں سے قریبی تعلقات موجود ہیں، جن میں توانائی کے شعبے اور دفاعی تعاون بھی شامل ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی بعض ٹیکنالوجیز میں شمالی کوریا کی معاونت کا بھی ذکر کیا جاتا رہا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق شمالی کوریا ایک غیر اعلانیہ ایٹمی طاقت سمجھا جاتا ہے اور وہ وقتاً فوقتاً نئے میزائل تجربات کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں کم جونگ ان نے اپنی بیٹی کے ہمراہ ایک نئے کروز میزائل کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ بھی کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) موجود ہیں جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر شمالی کوریا براہِ راست اس تنازع میں شامل ہوتا ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ اور عالمی سلامتی کی صورتحال پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں عالمی طاقتیں فوری سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گی۔ادھر شمالی کوریا کے حالیہ بیان کے بعد جنوبی کوریا میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے جنوبی کوریا سے دفاعی نظام کے حوالے سے تعاون کی درخواست کی ہے جس پر وہاں کی سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے۔عالمی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں سفارتی راستوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ کسی بڑے علاقائی یا عالمی تصادم سے بچا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:تیسرے روز بھی بڑی کمی،سونامزید8700روپے فی تولہ سستا

یہ بھی پڑھیں