تل ابیب (نیوز ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حالیہ بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے گزشتہ روز اپنے ویڈیوپیغام میں کہا کہ اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیاں خطے میں ایسے حالات پیدا کر رہی ہیں جو مستقبل میں بڑے تاریخی اور مذہبی واقعات مسیحاکی واپسی (دجال کی آمد)کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل کی پالیسی کا مقصد خطے میں اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانا اور ایران سے درپیش خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے مستقبل کا فیصلہ بالآخر ایرانی عوام کو خود کرنا ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود اسرائیل اپنی دفاعی حکمت عملی پر قائم رہے گا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر مختلف حلقوں میں تشویش اور بحث دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایسے بیانات خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔ دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کی پالیسی کا بنیادی مقصد ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
فوجی کارروائی در اصل "مسیحا کی واپسی" کی راہ ہموار کر رہی ہے، اسرائیلی وزیر اعظم pic.twitter.com/dgMT580KCA
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) March 14, 2026
مزیدپڑھیں:کیا نیتن یاہو مر چکے ہیں؟ سرکاری اکاؤنٹ سے نیتن یاہو کی ’’چھ انگلیوں‘‘ والی ویڈیو وائرل



