تہران (نیوز ڈیسک) ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحانہ سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز کھلی ہے، لیکن جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے لازم ہے کہ وہ ایرانی بحری حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ سیکیورٹی اور تکنیکی معاملات کو بہتر طور پر یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے مقرر کردہ محفوظ بحری راستوں کے ذریعے جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہا ہے اور طے شدہ اصولوں کی پاسداری نہیں کر رہا۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سمندری سیکیورٹی اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور ممکنہ خطرات، خصوصاً بارودی سرنگوں سے بچاؤ کے لیے متبادل اور محفوظ راستے اختیار کریں۔
جاری کردہ بحری نقشے کے مطابق بحیرہ عمان سے داخل ہونے والے جہاز جزیرہ لاراک کے شمالی راستے سے خلیج فارس میں داخل ہوں گے، جبکہ واپسی پر جنوبی راستہ اختیار کرتے ہوئے بحیرہ عمان کی جانب جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، کیوں کہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے۔
مزیدپڑھیں:ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانہ


