امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جانب سے مکمل اور تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ انہوں نے اس ملاقات کو سفارتی اعتبار سے نہایت اہم قرار دیا۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے تفصیلی پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی مہربان اور انتہائی قابل قیادت میں ہوئی۔ یہ دونوں غیر معمولی لوگ ہیں اور مسلسل میرا شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے پاکستانی قیادت کی میزبانی اور سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات صبح سویرے شروع ہوئے اور پوری رات جاری رہے، یہ سلسلہ تقریباً 20 گھنٹوں تک محیط رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور کئی معاملات میں فریقین کے درمیان پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی۔
انہوں نے کہا کہ بعض نکات پر ہونے والا اتفاق رائے فوجی کارروائی کے مقابلے میں بہتر پیش رفت تھا، تاہم اصل اور سب سے اہم مسئلہ ایران کے جوہری عزائم ہیں، جس پر کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں، جن میں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری شامل تھے، کے درمیان ماحول خوشگوار اور احترام پر مبنی رہا۔ ان کے مطابق دونوں جانب کے نمائندوں کے درمیان بات چیت میں دوستانہ فضا قائم رہی، لیکن ایران نے جوہری پروگرام کے معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھا۔
مزیدپڑھیں:ایران امریکہ جنگ بندی،قطر کا وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کا مؤقف پہلے دن سے واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے بقول ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مذاکراتی عمل جاری رکھنا اہم ہے، تاہم اگر بنیادی مسئلے پر پیش رفت نہ ہوئی تو مستقبل کے فیصلے اسی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

