Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایران کے شہر چابہار میں زوردار دھماکوں کی اطلاع

چابہار (Chabahar)میں اتوار کے روز زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کسی حملے یا تخریب کاری کا نتیجہ نہیں تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوزنے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چابہار میں ہونے والے دھماکے حالیہ جھڑپوں کے بعد ناکارہ اور نہ پھٹنے والے گولہ بارود کو تلف کرنے کی کارروائی کے دوران

ابتدائی طور پر دھماکوں کی نوعیت واضح نہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا پر حملے، میزائل کارروائی اور سکیورٹی خدشات سے متعلق متعدد افواہیں گردش کرتی رہیں، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے صورتحال کو معمول کی فوجی کارروائی قرار دیا۔

واضح رہے کہ چابہار ایران کا ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک پورٹ سٹی ہے جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ یہ بندرگاہ تجارتی، اقتصادی اور دفاعی اعتبار سے خطے میں خاص اہمیت رکھتی ہے اور ایران کی سمندری تجارت کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہے۔

دوسری جانب اسی روز قطر کے ساحلی علاقے کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز پر مبینہ میزائل یا ڈرون حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوزکے مطابق حملے کے بعد بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز ادارے یو کے ایم ٹی او نے بھی ایک بڑے تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ نشانہ بننے والا بحری جہاز امریکی ملکیت کا تھا اور امریکی پرچم کے تحت سفر کر رہا تھا۔ فارس نیوز نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ متاثرہ جہاز ایک امریکی بلک کیریئر تھا جس کا تعلق براہ راست امریکا سے تھا۔

سفارتی حل کے لیے تیار، مذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں، ایران

ادھر قطری وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اتوار کی صبح قطر کی سمندری حدود میں موجود ایک تجارتی کارگو جہاز ڈرون حملے کی زد میں آیا۔ حکام کے مطابق جہاز ابو ظبی سے روانہ ہوا تھا کہ دوران سفر اس میں آگ لگ گئی۔

قطری وزارت دفاع کے مطابق آگ پر بروقت قابو پا لیا گیا جس کے بعد جہاز نے اپنا سفر دوبارہ شروع کرتے ہوئے میسعید پورٹ کی جانب روانگی جاری رکھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے کے بعد تمام ضروری حفاظتی اقدامات کیے گئے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا گیا، تاہم کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

خطے میں حالیہ پیش رفت کے بعد خلیجی پانیوں اور اہم بحری راستوں کی سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں