نئی دہلی: بھارت میں جین زی اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احٹجاج کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد سینئر بی جے پی رہنما اور وفاقی وزیر پرلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی قلمدان سونپ دیا گیا ہے۔
پرلاد جوشی کرناٹک کے ضلع دھارواڑ سے مسلسل پانچویں مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ بنے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی کی کابینہ کے سب سے تجربہ کار اور قابلِ اعتماد وزراء میں شمار کیے جاتے ہیں۔
وہ پہلے سے اپنے پاس موجود صارفین کے امور، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارتوں کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اب وزارتِ تعلیم کا نظم و ضبط بھی دیکھیں گے۔
پرلاد وینکٹیش جوشی 27 نومبر 1962 کو کرناٹک کے شہر وجے پورا (سابقہ بیجاپور) میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ہوبلی سے حاصل کی، جس کے بعد کرناٹک یونیورسٹی سے وابستہ ڈگری کالج سے ہیومینٹیز میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں ہی وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ہو گئے تھے اور بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو کر انتظامی ڈھانچے میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں ہوبلی کے عیدگاہ میدان کی تحریک نے انہیں قومی سطح پر شناخت دی، جہاں انہوں نے متنازع مقام پر قومی پرچم لہرانے کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ اس تحریک کے حامی اسے قومی وقار کی علامت قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس سے علاقے میں سیاسی اور مذہبی تناؤ پھیلا، تاہم اس واقعے نے جوشی کے سیاسی مستقبل کی بنیاد مضبوط کر دی۔
ریاستی سطح سے شروعات کرنے کے بعد پرلاد جوشی نے بی جے پی تنظیم کے اندر قدم بہ قدم ترقی کی اور وہ بی جے پی کرناٹک کے صدر بھی رہے۔
سال 2004 میں وہ پہلی بار دھارواڑ سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور اس کے بعد 2009، 2014، 2019 اور 2024 کے تمام عمومی انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کر کے خطے میں بی جے پی کا مضبوط چہرہ بنے رہے۔
2019 میں مودی حکومت کے دوسرے دور میں انہیں کابینہ کا حصہ بنایا گیا اور انہوں نے 2019 سے 2024 کے دوران پارلیمانی امور، کوئلہ اور کانکنی کی وزارتیں سنبھالیں۔
بحیثیت پارلیمانی امور کے وزیر، انہوں نے ایوان میں حکومتی قانون سازی کو منظم انداز میں چلانے کی ذمہ داری بھی نبھائی۔
2024 میں دوبارہ کابینہ میں شامل ہونے کے بعد انہیں خوراک، عوامی تقسیم اور قابلِ تجدید توانائی کے محکمے دیے گئے۔
جوشی کا نام بی جے پی کی اعلیٰ قیادت میں ایک بہترین پارلیمانی حکمت عملی ساز کے طور پر لیا جاتا ہے اور انہیں اکثر انتظامی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک بااعتماد اور منجھا ہوا سیاست دان سمجھا جاتا ہے۔
2024 کے انتخابات کے دوران انہیں کرناٹک کی بااثر لنگایت برادری کے کچھ حصوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، تاہم بی جے پی کے مقامی رہنماؤں کے مطابق اس سیاسی غلط فہمی کو بعد میں طے کر لیا گیا تھا۔
بطور پارلیمانی امور اور کوئلے کے وزیر، ان کے دورِ حکومت میں بنائی گئی پالیسیوں پر اپوزیشن جماعتوں نے مختلف اوقات میں تنقید بھی کی، خصوصاً پارلیمنٹ میں بحث کے وقت میں کمی اور تجارتی بنیادوں پر کوئلے کی کانکنی کو نجی شعبے کے لیے کھولنے جیسے اقدامات پر خدشات کا اظہار کیا گیا۔ تاہم، ان پر بذاتِ خود کرپشن یا کسی مالی بدعنوانی کا کوئی عدالتی جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔
اب جبکہ نیٹ امتحانات کے متنازع پیپر لیک کے بعد طلبا اور اپوزیشن کے شدید دباؤ پر دھرمیندر پردھان نے استعفا دیا ہے، تو حکومت نے ایک بحرانی اور نازک وقت میں وزارتِ تعلیم کی باگ ڈور پرلااد جوشی کے سپرد کی ہے تاکہ تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ اس اصلاحاتی ادارے کے وقار کو بحال کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پیٹرول کی قیمتیں 27 جولائی تک برقرار رکھنے کا اعلان

