Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

سعودی آرامکو راس تنورہ ریفائنری کی بندش، ڈرون حملے کے بعد تیل کی سپلائی پر خدشات

سعودی آرامکو راس تنورہ ریفائنری کی بندش

سعودی آرامکو راس تنورہ ریفائنری کی بندش کے بعد خلیجی خطے میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ریفائنری کو مبینہ ڈرون حملے کے بعد احتیاطی طور پر بند کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی Saudi Aramco نے راس تنورہ ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے۔

راس تنورہ کمپلیکس خلیج کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کی بڑی ریفائنریوں میں شمار ہوتی ہے۔

ریفائنری یومیہ تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے اہم مرکز بھی ہے۔

خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب Iran نے مبینہ امریکی اسرائیلی حملے کے بعد مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔

حملوں کی لہر سے Abu Dhabi، Dubai، Doha، Manama اور عمان کی بندرگاہی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔

متحدہ عرب امارات اور عمان کی بندرگاہوں پر بحری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ عالمی تیل منڈی نے بھی فوری ردعمل دیا۔

برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز تقریباً دس فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں نے ممکنہ سپلائی رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کی۔

تاحال کمپنی کی جانب سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بندش حفاظتی اقدام تھا۔

سعودی آرامکو راس تنورہ ریفائنری کی بندش خطے میں توانائی تنصیبات کو درپیش خطرات کو ظاہر کرتی ہے۔ عالمی منڈیاں آئندہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں