Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

امریکا ایران جنگ کی پیشگوئی: کیا سپر پاور کو شکست کا سامنا ہوگا؟ تجزیہ کار کا بڑا دعویٰ

امریکا ایران جنگ کی پیشگوئی: کیا سپر پاور کو شکست کا سامنا ہوگا؟

امریکا ایران جنگ کی پیشگوئی نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ کار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو شکست ہو سکتی ہے۔

یہ دعویٰ پروفیسر جیانگ نے ایک انٹرویو میں کیا۔ وہ یوٹیوب چینل پری ڈکٹیو ہسٹری کے میزبان ہیں۔

2024 کی اہم پیشگوئیاں

پروفیسر جیانگ نے 2024 میں تین بڑی پیشگوئیاں کی تھیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب جیتیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ شروع کریں گے۔ تیسری پیشگوئی یہ تھی کہ امریکا اس جنگ میں کامیاب نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق پہلی دو پیشگوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست جھڑپیں جاری ہیں۔

عالمی نظام میں بڑی تبدیلی کا امکان

پروفیسر جیانگ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ عالمی نظام کو بدل سکتی ہے۔

1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دنیا زیادہ تر ایک قطبی نظام کے تحت چل رہی ہے۔ اس نظام میں امریکا غالب طاقت رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ تنازع اس توازن کو ختم کر سکتا ہے۔

ایران کی تیاری اور حکمت عملی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران گزشتہ دو برس سے اس ممکنہ جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔

ان کے مطابق ایران اس جنگ کو مذہبی تناظر میں دیکھتا ہے اور اسے عظیم شیطان کے خلاف جدوجہد سمجھتا ہے۔

پروفیسر جیانگ نے کہا کہ ایران خلیجی ممالک میں تیل کے کنوؤں اور ریفائنریوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عرب ممالک کے پانی صاف کرنے والے پلانٹس بھی ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں، جو تقریباً 60 فیصد تازہ پانی فراہم کرتے ہیں۔

غیر روایتی جنگ اور طویل تنازع

ان کے مطابق ایران غیر روایتی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔

طویل جنگ سے امریکا کے اسلحہ ذخائر، سپلائی لائنز اور سیاسی عزم پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے پیشگوئی کی کہ اگر امریکا کو شکست ہوئی تو اس کی عالمی بالادستی کو شدید دھچکا لگے گا۔ اس کے نتیجے میں چین اور روس مضبوط ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کی محتاط رائے

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جنگ کے نتائج پہلے سے حتمی طور پر نہیں بتائے جا سکتے۔

زمینی حقائق کسی بھی وقت صورت حال بدل سکتے ہیں۔ اس لیے حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں