Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

ایران بحران سے عالمی چپ صنعت متاثر ہونے کا خدشہ، جنوبی کوریا کی وارننگ

ایران بحران

ایران بحران کے باعث سیمی کنڈکٹر بنانے کے لیے استعمال ہونے والے اہم مواد کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

جنوبی کوریا کے ایک حکومتی رکنِ پارلیمان نے جمعرات کو خبردار کیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع طویل ہوگیا تو عالمی چپ پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔

جنوبی کوریا کی چپ صنعت میں تشویش

جنوبی کوریا دنیا کی تقریباً دو تہائی میموری چپس تیار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران بحران عالمی ٹیکنالوجی صنعت کو متاثر کرسکتا ہے۔

حکومتی رکن کم یونگ بے نے بڑی چپ کمپنیوں اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے خام مال کی فراہمی متاثر ہوئی تو چپ سازی کا عمل رک سکتا ہے۔

ہیلیم کی فراہمی اہم مسئلہ

چپ بنانے کے دوران درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کے لیے ہیلیم گیس استعمال کی جاتی ہے۔

اس وقت اس گیس کا کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں ہے اور دنیا کے چند ہی ممالک اس کی بڑی مقدار پیدا کرتے ہیں۔

اگر ایران بحران کے باعث سپلائی متاثر ہوئی تو سیمی کنڈکٹر صنعت کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی وجہ سے مانگ میں اضافہ

اس وقت چپس کی مانگ پہلے ہی بہت زیادہ ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز تیزی سے بن رہے ہیں۔

یہ ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں طاقتور چپس استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور گاڑیوں کی صنعت بھی متاثر ہورہی ہے۔

کمپنیوں کی صورتحال پر نظر

جنوبی کوریا کی چپ ساز کمپنی ایس کے ہائنکس نے کہا ہے کہ اس کے پاس فی الحال ہیلیم کا کافی ذخیرہ موجود ہے اور فوری خلل کا خدشہ نہیں۔

دوسری جانب عالمی کمپنی گلوبل فاؤنڈریز نے بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سپلائرز سے رابطے میں ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹر منصوبوں پر اثر

کم یونگ بے کے مطابق ایران بحران مشرقِ وسطیٰ میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز بنانے کے منصوبوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

حال ہی میں ایمیزون نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اس کے کچھ ڈیٹا سینٹر ڈرون حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی چپ مانگ اور ٹیکنالوجی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں