Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

امریکہ کی اسرائیل کو اسلحہ فروخت کانگریس کے جائزے کے بغیر منظور

امریکہ کی اسرائیل کو اسلحہ فروخت

امریکہ کی اسرائیل کو اسلحہ فروخت کی منظوری 151.8 ملین ڈالر مالیت کے معاہدے کے تحت دی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو اس فیصلے کا اعلان کیا۔

حکام کے مطابق اس معاہدے کو کانگریس کے جائزے کے بغیر ہنگامی اختیار استعمال کرتے ہوئے منظور کیا گیا۔

اسلحے کے معاہدے کی تفصیلات

محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق اسرائیل نے 12 ہزار بی ایل یو-110 اے/بی عام استعمال کے بموں کے ڈھانچے طلب کیے تھے۔

ہر بم کا وزن تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ بتایا گیا ہے۔ اس معاہدے میں اسلحے کی معاونت بھی شامل ہے۔

اس منصوبے کا مرکزی ٹھیکیدار ٹیکساس میں قائم کمپنی ریپکون یو ایس اے ہوگی۔

ہنگامی اختیار کے تحت فیصلہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ کی اسرائیل کو اسلحہ فروخت قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

اسی بنیاد پر ہنگامی اختیار استعمال کرتے ہوئے فوری منظوری دی گئی۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایک ہفتہ قبل امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔

امریکی سیاست میں تنقید

امریکی کانگریس کے رکن گریگوری میکس نے اس فیصلے پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی اختیار استعمال کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے لیے مناسب تیاری نہیں تھی۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

امریکہ کی اسرائیل کو اسلحہ فروخت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے۔ اس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کے قریب حملے کیے۔

ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک ہزار تین سو سے زائد ایرانی شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

جنگ کے اثرات

رپورٹس کے مطابق کئی اعلیٰ ایرانی رہنما بھی اس جنگ میں مارے گئے جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شامل ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق کویت میں ایک فوجی تنصیب پر حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

اسرائیل کے مطابق اب تک ملک کے اندر کم از کم دس شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کو مسلسل امریکی حمایت

امریکہ گزشتہ دو برس سے اسرائیل کی فوجی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ حمایت صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر جو بائیڈن دونوں ادوار میں جاری رہی۔

تاہم انسانی حقوق کے ماہرین نے خاص طور پر غزہ کی جنگ کے دوران امریکی اسلحہ فروخت پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں