امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران کے خلاف جاری جنگ میں برطانیہ کے طیارہ بردار جہازوں کی ضرورت نہیں۔
ٹرمپ نے برطانوی طیارہ بردار جہاز مسترد کر دیے اور دعویٰ کیا کہ امریکا اس جنگ میں پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔
انہوں نے یہ بیان اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں دو طیارہ بردار جنگی جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے لیکن اب اس مدد کی ضرورت نہیں رہی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب برطانوی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ جدید طیارہ بردار جہاز پرنس آف ویلز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
اپنے پیغام میں ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایسے اتحادیوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں۔
انہوں نے برطانیہ کو ماضی کا عظیم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس بات کو یاد رکھے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ بیان امریکا اور برطانیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل ۲۸ فروری سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
برطانیہ نے اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔
تاہم اس نے امریکا کو محدود دفاعی مقاصد کے لیے اپنی کچھ فوجی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
ان میں فئیر فورڈ فضائی اڈہ اور بحرِ ہند میں واقع ڈیگو گارشیا کا فوجی اڈہ شامل ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ امریکی یا اسرائیلی حملوں میں شامل نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قومی مفادات اور شہریوں کے تحفظ پر توجہ دے رہی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ میں اس جنگ کے خلاف آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق بڑی تعداد میں برطانوی عوام اس جنگ کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نے لندن میں امریکی سفارت خانے کے باہر احتجاج بھی کیا۔


