قطر کا سفارتی مؤقف ایک بار پھر واضح کیا گیا ہے کہ دوحہ مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم آئندہ کسی بھی حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔
یہ بات قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے موجودہ علاقائی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
انہوں نے بتایا کہ کشیدگی کے آغاز کے بعد قطر اور ایران کے درمیان صرف ایک براہ راست رابطہ ہوا ہے۔
یہ رابطہ بحران کے آغاز میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہوا تھا۔
ترجمان کے مطابق قطر اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذرائع اب بھی مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ قطر کا سفارتی مؤقف کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر مرکوز ہے۔
ماجد الانصاری نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے ابتدا میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی۔
تاہم اس کے بعد قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین پر مزید حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان تیار کر رہا تھا۔
لیکن ایران نے معذرت کے بعد ردعمل کے لیے مناسب موقع فراہم نہیں کیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ قطر موجودہ جنگ کا فریق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر کا سفارتی مؤقف مذاکرات پر مبنی ہے، لیکن اگر آئندہ کوئی حملہ ہوا تو ملک اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا۔


